7 محرم الحرام: لاہوریوں کا مذہبی مزاج، غازی عباسؑ کی شجاعت اور لکھنؤ کی عزاداری کی تاریخ


 برصغیر پاک و ہند میں محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی فضا سوگوار ہو جاتی ہے، لیکن 7 محرم الحرام کی تاریخ دلوں میں ایک منفرد رقت اور جوش پیدا کر دیتی ہے۔ یہ دن کربلا کے اس عظیم سپہ سالار، وفادار بھائی اور پیاسے بچوں کے آسرے سے منسوب ہے جسے دنیا حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے۔ اندرون لاہور کی تنگ گلیوں سے لے کر برصغیر کی عزاداری کے مرکز لکھنؤ تک، اس دن عقیدت کی ایک لازوال تاریخ رقم ہوتی ہے۔

لاہوریوں کا مذہبی مزاج اور 7 محرم کی ثقافت

اندرون لاہور کا مذہبی مزاج اور یہاں کی عزاداری کی ثقاہت صدیوں پرانی ہے۔ 7 محرم الحرام کی دوپہر ہوتے ہی پرانے شہر کے بازار، تھڑے اور گلیاں عزاداروں سے بھر جاتے ہیں۔

  • شبیہِ ذوالجناح اور علم پاک کی برآمدگی: لاہور میں اس دن خصوصاً شبیہِ ذوالجناح اور غازی عباسؑ کے علم پاک کے روایتی جلوس برآمد ہوتے ہیں۔

  • کشمیری سنگت اور نوحہ خوانی: لاہور کی مشہور 'کشمیری سنگت' اور دیگر ماتمی انجمنیں روایتی انداز میں سینہ زنی اور رقت آمیز نوحہ خوانی کرتی ہیں، جس سے پورا شہر گونج اٹھتا ہے۔

  • جھروکوں اور چھتوں کا منظر: اندرون لاہور کے قدیم طرزِ تعمیر والے مکانات کے تھڑوں، بالکونیوں اور چھتوں پر خواتین اور بچے کھڑے ہو کر جلوس کا استقبال کرتے ہیں، پھول نچھاور کرتے ہیں اور مائیں اپنے بچوں کے لیے غازیؑ کے علم کے نیچے منتیں اور مرادیں مانگتی ہیں۔ گھروں پر لہراتے سیاہ پرچم (عالمِ سوگ) اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ لاہور کا بچہ بچہ حسینییت کا امین ہے۔

غازی عباس علمدارؑ کا خاندانی پس منظر اور فضائل

حضرت عباسؑ، امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ام البنینؑ (فاطمہ بنتِ حزام) تھیں، جن کا تعلق عرب کے ایک نہایت شجاع اور معزز قبیلے سے تھا۔

حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب (جو انساب کے ماہر تھے) سے فرمایا تھا کہ میرے لیے ایک ایسے قبیلے کی خاتون کا انتخاب کریں جس کے بطن سے ایسا بیٹا پیدا ہو جو کربلا میں میرے حسینؑ کی نصرت کرے۔ تاریخ نے دیکھا کہ ام البنینؑ کے چاروں بیٹوں نے کربلا میں جانیں قربان کیں، لیکن غازی عباسؑ نے وفاداری کی وہ معراج پائی کہ آپ کو "باب الحوائج" (حاجتیں پوری کرنے والا دروازہ) اور "قمرِ بنی ہاشم" (بنی ہاشم کا چاند) کہا گیا۔

امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور اطاعت

غازی عباسؑ کی امام حسینؑ سے عقیدت صرف بھائی چارے تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپ امام حسینؑ کو اپنا وقت کا امام اور رہبر مانتے تھے۔ آپ نے پوری زندگی امام حسینؑ کو کبھی "بھائی" کہہ کر نہیں پکارا، بلکہ ہمیشہ "آقا"، "مولا" یا "فرزندِ رسول" کہہ کر مخاطب کیا۔

جب 7 محرم کو حسینی خیموں پر پانی بند کر دیا گیا، تو بچوں کی پیاس غازی عباسؑ سے دیکھی نہ گئی۔ امام حسینؑ سے آپ کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے لشکری اعزازات اور سپہ سالاری کے باوجود خود کو سقا (پانی پلانے والا) کہلوانا پسند کیا اور بچوں کے لیے پانی لانے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیا۔

کربلا میں غازی عباسؑ کا معرکہ اور شہادت

10 محرم کو جب امام حسینؑ کے تمام انصار و مددگار شہید ہو چکے تھے، غازی عباسؑ نے مولا سے جنگ کی اجازت چاہی۔ امامؑ نے فرمایا: "عباس! تم میرے لشکر کے علمبردار ہو، تمہارے جانے سے میرا لشکر ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر جانا ہی ہے تو ان معصوم بچوں کے لیے پانی کا ایک مشکیزہ لے آؤ۔"

غازی عباسؑ تلوار میان میں کر کے، صرف علم اور مشک لے کر فرات کی طرف بڑھے۔ چاروں طرف پھیلے ہوئے ہزاروں کے لشکر کو چیرتے ہوئے آپ نہرِ فرات میں داخل ہوئے۔ غازیؑ نے چلو میں پانی لیا، عباسؑ خود تین دن کے پیاسے تھے، لیکن خیموں میں بند معصوم سکینہؑ کی پیاس یاد آئی تو پانی واپس فرات میں گرا دیا اور مشک بھری۔

واپسی پر دشمن نے گھیرا تنگ کر لیا۔ آپ پر تیروں کی بارش کی گئی، دونوں بازو قلم کر دیے گئے، مشکیزے پر تیر مارا گیا جس سے پانی بہہ گیا، اور آخر کار ایک گرز کے وار سے آپ گھوڑے سے زمین پر آ رہے۔ گرتے وقت آپ نے بلند آواز میں پکارا: "یا اخا ادرک اخاک" (اے بھائی! اپنے بھائی کی خبر لیجیے)۔ امام حسینؑ جب آپ کے لاشے پر پہنچے تو آپ کی کمر ٹوٹ چکی تھی، اور غازیؑ کا علم ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہو گیا۔

لکھنؤ کی عزاداری اور 7 محرم کی تاریخی کڑی

اگر برصغیر میں عزاداری کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو لکھنؤ (اودھ) کا ذکر کیے بغیر یہ سفر ادھورا ہے۔ لکھنؤ کے نوابین (خصوصاً آصف الدولہ اور نواب غازی الدین حیدر) کے دور میں عزاداری کو ایک نئی اور منظم شکل ملی۔

  • درگاہِ حضرت عباسؑ (لکھنؤ): لکھنؤ میں 7 محرم کی عزاداری کا مرکز "درگاہِ حضرت عباسؑ" ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دور میں ایک زائر (میرزا فقیر علی) عراق سے غازی عباسؑ کے روضے کے علم کا مبارک حصہ (پنجہ پاک) لکھنؤ لائے، جس کے بعد وہاں یہ تاریخی درگاہ قائم ہوئی۔

  • لکھنؤ سے لاہور تک کا سفر: لکھنؤ کی عزاداری میں سوز خوانی، لکھنؤی مرثیہ (جیسے میر انیس اور مرزا دبیر کا کلام) اور علم کا روایتی جلوس برصغیر کی ثقافت کا حصہ بنا۔ لاہور کے عزاداروں نے بھی لکھنؤ کے اس ادبی اور مذہبی مزاج کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاہور کی پرانی ماتمی انجمنیں اسی لکھنؤی سوز اور عقیدت کے رنگ میں ڈوب کر غازی عباس علمدارؑ کا پرسہ پیش کرتی ہیں۔

اختتامیہ

7 محرم الحرام کا دن ہمیں سکھاتا ہے کہ وفاداری، اطاعت اور شجاعت کسے کہتے ہیں۔ اندرون لاہور کے بازاروں کا ماتم ہو یا لکھنؤ کی تاریخی درگاہوں کا ہجوم، ہر جگہ غازی عباسؑ کا نام سچائی اور مظلومیت کے علمبردار کے طور پر زندہ ہے۔ اللہ پاک تمام عزاداروں کی حاضری اور پرسہ داری قبول فرمائے۔

آپ کی رائے: آپ کے علاقے میں 7 محرم کا جلوس کس روایتی انداز میں برآمد ہوتا ہے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔ مزید تاریخی تحریروں کے لیے ہمارے بلاگ کو سبسکرائب کریں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی