اندرون لاہور کے لوگوں کا مذہبی مزاج اور تہذیب: موچی گیٹ میں یکم محرم کا آنکھوں دیکھا سماں


لاہور صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب ہے۔ جب بات ہو اندرون لاہور (Walled City) کی، تو یہاں کی تنگ گلیاں، اونچے مکانات اور تاریخی دروازے اپنے اندر صدیوں پرانی کہانیاں سموئے ہوئے ہیں۔ لیکن اندرون لاہور کا اصل حسن یہاں کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ یہاں کے باسیوں کے دلوں اور ان کے منفرد لائف اسٹائل میں ہے۔

یہاں کے لوگوں کا مذہبی مزاج، رواداری اور اپنی روایات سے جڑے رہنے کا جذبہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ خاص طور پر جب محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے، تو اندرون لاہور کی فضا بالکل بدل جاتی ہے۔ آئیے آپ کو یکم محرم الحرام کے موقع پر موچی گیٹ کے ایک روایتی محلے کے آنکھوں دیکھے حال کی سیر کرواتے ہیں۔

1. یکم محرم الحرام: عقیدت اور سوگ کا آغاز

محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی اندرون لاہور کے گلی کوچوں میں ایک پروقار اور سنجیدہ تبدیلی آ جاتی ہے۔ بازاروں کی عام گہما گہمی اب ایک خاص مذہبی نظم و ضبط میں ڈھل جاتی ہے۔ ہر طرف کالے پرچم (علم پاک) لہراتے نظر آتے ہیں، جو اس بات کا اعلان ہوتے ہیں کہ نواسہ رسولؐ کی یاد کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔

امام بارگاہوں کی صفائی ستھرائی

موچی گیٹ کے محلوں میں صبح سویرے ہی سے ایک الگ ہی چہل پہل دیکھنے کو ملتی ہے۔ محلے کے نوجوان، بزرگ اور یہاں تک کہ بچے بھی اپنی مقامی امام بارگاہوں کی صفائی ستھرائی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

  • فرشوں کو دھویا جاتا ہے۔

  • در و دیوار کو چمکایا جاتا ہے۔

  • عزاداری کے لیے قالین اور فرش عزاء بچھائے جاتے ہیں۔

یہ سب کسی معاوضے یا مجبوری کے تحت نہیں، بلکہ خالصتاً عقیدت اور محبت کے جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔

2. سبیلیں اور لنگر: خدمتِ خلق کی شاندار مثال

اندرون لاہور کی تہذیب کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں دکھاوے سے پاک خدمتِ خلق نظر آتی ہے۔ یکم محرم ہی سے گلیوں اور اہم چوکوں پر سبیلیں قائم کر دی جاتی ہیں۔

  • تانبے کے بڑے بڑے برتنوں میں ٹھنڈا شربت، دودھ اور پانی تیار کیا جاتا ہے۔

  • محلے کے چھوٹے بچے بڑے جوش و خروش سے ہر گزرنے والے کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو، احترام کے ساتھ پانی یا شربت پیش کرتے ہیں۔

یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے مزاج میں مہمان نوازی اور سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

3. چراغاں اور پرچم کشائی: محلے کا منظر نامہ

جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، موچی گیٹ کے بازاروں اور گلیوں کا حسن دیکھنے لائق ہوتا ہے۔

  • برقی قمقمے (Lights): گلیوں کو ہلکی اور مدہم روشنیوں سے سجایا جاتا ہے جو ماحول میں ایک اداس لیکن پروقار خوبصورتی پیدا کرتی ہیں۔

  • پرچم کشائی (عَلم پاک کی بلندی): مختلف چوکوں اور گھروں کی چھتوں پر باقاعدہ احترام کے ساتھ علم پاک بلند کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر ہر آنکھ نم اور ہر دل سوگوار ہوتا ہے۔

"اندرون لاہور کی گلیوں میں محرم کے دوران جو لہر دوڑتی ہے، وہ صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ یہاں کی نسلوں پرانی ثقافت کا حصہ ہے، جہاں غمِ حسینؑ سب کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔"

4. بازاروں کا سماں: بچے، بزرگ اور خواتین

اس روایتی ماحول میں محلے کا ہر فرد شامل ہوتا ہے۔ بازاروں میں خواتین سیاہ لباس میں ملبوس نظر آتی ہیں، بزرگ دھیمی گلیوں میں چلتے ہوئے ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوتے ہیں، اور بچے بڑے بزرگوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کام سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے یہ مذہبی مزاج اور تہذیب ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہی ہے۔

여기 کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ محرم کے ان ایام میں سیکیورٹی سے زیادہ باہمی احترام اور محبت کا پہرہ ہوتا ہے۔ محلے کا ہر باسی دوسرے کی عقیدت کا ضامن بنتا ہے۔

اختتامیہ: آپ کی کیا رائے ہے؟

اندرون لاہور (خاص طور پر موچی گیٹ) کا یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل طاقت ہماری روایات، ہماری ثقافت اور ہمارا باہمی بھائی چارہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کا مذہبی مزاج صرف رسومات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ان کے اخلاق، ان کی گفتگو اور ان کے رہن سہن سے جھلکتا ہے۔

اب باری ہے آپ کی!

  • کیا آپ نے کبھی اندرون لاہور میں محرم الحرام کا یہ روایتی سماں خود دیکھا ہے؟

  • آپ کے خیال میں اندرون لاہور کے لوگوں کے اس مذہبی مزاج اور شاندار تہذیب کی سب سے خوبصورت بات کیا ہے؟

اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں اور اگر آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں!


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی