فکرِ کربلا: شہادتِ امام حسینؑ کے بعد مظلوم قیدیوں کا سفر اور جنابِ شیریں سے ملاقات
کربلا کا میدانِ جنگ جہاں ایک طرف قربانی، صبر اور شجاعت کا بلند ترین استعارہ ہے، وہیں سانحہ کربلا کے بعد اہل بیتِ رسولﷺ پر ٹوٹنے والے مظالم انسانی تاریخ کا وہ تلخ ترین باب ہیں جسے سن کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔
امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کی عظیم شہادت کے بعد، یزیدی فوج نے نہ صرف خیام کو آگ لگائی بلکہ خاندانِ نبوت کی مستورات اور بیمارِ کربلا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو بے کجاوہ اونٹوں پر قیدی بنا کر کوفہ اور شام کے بازاروں کی طرف روانہ کیا۔
اس مضمون میں ہم تاریخِ کربلا کے اسی دردناک سفر کے ایک اہم، مگر کم بیان کیے جانے والے واقعے کا ذکر کریں گے—جنابِ شیریں سے اسیرانِ کربلا کی ملاقات۔
جنابِ شیریں کون تھیں؟ (تاریخی پس منظر)
تاریخی روایات کے مطابق، جنابِ شیریں (جنہیں بعض کتب میں ایک باوفا خاتون کے طور پر یاد کیا گیا ہے) شام یا کوفہ کے راستے میں آباد ایک متمول خاتون تھیں جو امام حسین علیہ السلام اور اہل بیتِ رسولﷺ سے شدید عقیدت و محبت رکھتی تھیں۔ بعض تذکروں کے مطابق وہ ماضی میں کسی نہ کسی طرح درِ اہل بیتؑ سے وابستہ رہی تھیں یا ان کی سخاوت و مرتبے سے بخوبی واقف تھیں۔
جب یزیدی فوج مظلوم قیدیوں کو لے کر ان کے علاقے سے گزر رہی تھی، تو جنابِ شیریں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ لٹا ہوا کاروانِ عشق کس کا ہے۔ انہوں نے دور سے دیکھا کہ کچھ قیدی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں لائے جا رہے ہیں، بچے پیاسے ہیں اور مستورات کے سروں پر چادریں تک نہیں ہیں۔
دورانِ سفر ملاقات اور گریہ و زاری کا منظر
جنابِ شیریں نے جب قیدیوں کی یہ حالت دیکھی، تو تڑپ اٹھیں۔ وہ اپنے گھر سے کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کے لیے کچھ تبرکات لے کر کاروان کی طرف دوڑیں۔
۱۔ بچوں کو صدقہ دینے کی کوشش اور بی بی زینبؑ کا جواب
جب جنابِ شیریں نے ترحم کے طور پر قیدی بچوں کو کچھ کھانے کی چیزیں (جیسے کھجوریں یا روٹی) دینا چاہیں، تو تاریخ گواہ ہے کہ مخدراتِ عصمت و طہارت نے بچوں سے وہ اشیاء لے کر واپس کر دیں۔ اس موقع پر شیرِ خدا کی بیٹی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جس نے جنابِ شیریں کے دل کو ہلا کر رکھ دیا:
"اے خاتون! ہمیں یہ نہ دو، ہم آلِ محمدﷺ ہیں اور ہم پر صدقہ حرام ہے۔"
۲۔ پہچان کا وہ لرزہ خیز لمحہ
یہ لفظ سنتے ہی جنابِ شیریں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ آلِ محمدﷺ؟ یہ رسولِ خدا کا خاندان ہے؟ انہوں نے غور سے دیکھا تو پہچان گئیں کہ یہ تو وہی ہستیاں ہیں جن کے در سے دنیا فیض پاتی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میدانِ کربلا میں امام حسینؑ کو تین دن کا پیاسا شہید کر دیا گیا اور یہ ان کی بہنیں اور بچے ہیں، تو جنابِ شیریں نے اپنے سر پر خاک اڑا لی اور دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔
اس ملاقات کے تاریخی اور فکری پہلو
اس تلخ اور دردناک ملاقات سے چند اہم فکری نکات سامنے آتے ہیں جو "فکرِ کربلا" کا اصل اثاثہ ہیں:
عزتِ نفس اور اصول پسندی: بھوک، پیاس اور بدترین اسیری کے باوجود اہل بیتؑ نے اپنے اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی اور صدقہ قبول کرنے سے انکار کیا۔
حق اور باطل کا آشکار ہونا: یزید نے پوری کوشش کی تھی کہ ان قیدیوں کو (نعوذ باللہ) باغی بنا کر پیش کرے، لیکن بی بی زینبؑ کے خطبات اور سچائی نے راستے میں ہی یزیدی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔
محبانِ اہل بیتؑ کا تڑپ اٹھنا: جہاں بھی کسی سچے انسان کو معلوم ہوا کہ یہ رسولﷺ کا کنبہ ہے، وہ یزیدی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن گیا اور سسکیاں بھرنے لگا۔
اختتامیہ
شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد کا سفر کوئی عام سفر نہیں تھا، یہ کربلا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی ایک عظیم مہم تھی جس کی قیادت سیدہ زینبؑ اور امام زین العابدینؑ نے کی۔ جنابِ شیریں جیسی خواتین سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مظلوم کی سچائی دلوں کو فتح کر ہی لیتی ہے۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم صرف کربلا کے میدان تک محدود نہ رہیں، بلکہ کربلا کے بعد کے ان تلخ حقائق اور اسیروں کے مصائب کو پڑھیں تاکہ "فکرِ کربلا" کے حقیقی شعور کو پا سکیں۔
بلاگرز کے لیے نوٹ: آپ اس پوسٹ کو اپنے بلاگ پر شیئر کرتے وقت سوشل میڈیا شیئرنگ کے لیے اوپر دیے گئے تھمب نیل کا استعمال لازمی کریں تاکہ آپ کی پوسٹ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے۔
.png)
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں