شہدائے کربلا کے بعد: مظلومیتِ اہلِ بیتؑ کا دوسرا باب
فکرِ کربلا: شہادتِ حسینؑ کے بعد اہلِ بیتؑ کی مستورات اور بچوں پر کیا گزری؟
واقعہ کربلا تاریخِ انسانی کا وہ عظیم اور المناک موڑ ہے جس نے حق اور باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی۔ ۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو میدانِ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے ۷۲ جانثاروں نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ لیکن کربلا کی داستان صرف ۱۰ محرم کی عصر تک محدود نہیں ہے۔ حقیقی امتحان اور صبرو استقامت کا ایک نیا باب تو امام حسینؑ کی شہادت کے بعد شروع ہوا، جب یزیدی فوج نے رسول اللہ ﷺ کے پاک گھرانے کی بے گناہ عورتوں اور بچوں کو اپنا نشانہ بنایا۔
آئیں آج "فکرِ کربلا" کے اس مضمون میں تاریخ کے ان اوراق کو پلٹتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شہدائے کربلا کی شہادت کے بعد ان کے پاکیزہ حرم اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
۱۔ خیموں کی لوٹ مار اور آتش زنی
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد، عمر بن سعد کے حکم پر یزیدی فوج نے امام کے خیموں کا رخ کیا۔ وہ خیمے جو کل تک وحیِ الٰہی کا مرکز اور چادرِ تطہیر کا سایہ تھے، وہاں غارت گری مچائی گئی۔
معصوم بچوں کے رونے کی اوازیں گونج رہی تھیں لیکن ظالموں کے دل موم نہ ہوئے۔
بیبیوں کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں۔
سونا اور چاندی تو دور کی بات، مستورات کے مقنعے اور بچوں کے معمولی لباس تک لوٹ لیے گئے۔
آخر میں ان خیموں کو آگ لگا دی گئی، جس کی وجہ سے معصوم بچے اور خواتین جلتے ہوئے خیموں سے نکل کر تپتے ہوئے صحرا میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
۲۔ معصوم بچوں پر مظالم
کربلا کے اس اداس خیمہ گاہ میں سب سے زیادہ مظلوم بچے تھے۔ پیاس کی شدت، گرمی کا طوفان اور اوپر سے اپنوں کی شہادت کا صدمہ۔
امام حسینؑ کی بیٹی بی بی سکینہ (یا فاطمہ صغریٰ): روایات کے مطابق ان کے کانوں سے بالیاں اس بے دردی سے نوچی گئیں کہ ان کے کان زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔
خیموں کی آگ اور بھگدڑ کے دوران کئی معصوم بچے سہم کر صحرا کی طرف بھاگے اور بھوک و پیاس کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
۳۔ اسیرانِ کربلا کا کوفہ اور شام کا سفر
۱۱ محرم کو شہدائے کربلا کے بے گور و کفن لاشوں کو تپتی ریت پر چھوڑ کر، اہلِ بیتؑ کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔
بے کجاوہ اونٹ: رسول اللہ ﷺ کی نواسیوں، جن میں سیدہ زینبؑ اور سیدہ ام کلثومؑ شامل تھیں، کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کیا گیا۔
بیمارِ کربلا کی زنجیریں: امام زین العابدین علیہ السلام، جو شدید بیمار تھے، ان کے گلے میں طوق اور پیروں میں بھاری زنجیریں ڈالی گئیں۔
شہدائے کے سر نیزوں پر: سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر یہ تھا کہ قیدیوں کے کاروان کے آگے آگے امام حسینؑ اور ان کے انصار کے کٹے ہوئے سر نیزوں پر سجا کر چلائے جا رہے تھے، تاکہ بچوں اور مستورات کو نفسیاتی طور پر توڑا جا سکے۔
۴۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں پیشی
اس اسیروں کے قافلے کو پہلے کوفہ میں ابنِ زیاد کے دربار اور پھر وہاں سے سینکڑوں میل دور دمشق (شام) میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔
بازاروں میں ان پاکیزہ مستورات کی تشہیر کی گئی جنہیں کبھی سورج کی دھوپ نے بھی نہیں دیکھا تھا۔
دربارِ یزید میں ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا، لیکن اس کڑے وقت میں بھی سیدہ زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کے خطبوں نے یزیدی سلطنت کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے۔ انہوں نے قید میں رہ کر بھی یزید کے ظلم کو بے نقاب کیا اور اپنے نانا کا دین سرفراز کیا۔
فکرِ کربلا کا پیغام: کربلا کے بعد جو سلوک رسولؐ کے گھرانے کے ساتھ ہوا، وہ رہتی دنیا تک ظالموں کی بدترین اور مظلوموں کی عظیم ترین داستان ہے۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے چادر چھن جانے کے بعد بھی اپنے صبر، خطبات اور کردار سے اسلام کی لاج رکھی۔ یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں صرف جان دینا ہی قربانی نہیں، بلکہ حق کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں جھلنا اور صبر کا دامن نہ چھوڑنا بھی حسینیت کا اصل جوہر ہے۔
ہمیں صرف کربلا کے پیاسوں پر آنسو ہی نہیں بہانے، بلکہ ان کے صبرو استقامت اور اس فکر کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہے جس کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
.png)
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں