پیغامِ کربلا: شہید زندہ ہے اور اس کا پیغام قوموں کی بقا ہے
۱۰ محرم الحرام کا دن صرف تاریخ کا ایک ورق نہیں، بلکہ حق و باطل، صبر و رضا اور شجاعت و قربانی کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جو ہر سال ہمارے دلوں میں ایمان کی شمع کو تازہ کرتی ہے۔ شعیانِ حیدرِ کرار ہر سال اس دن امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کی یاد منا کر دنیا کے تمام انسانوں کو ایک آفاقی اور ابدی پیغام دیتے ہیں۔
یہ پیغام کسی ایک مکتبِ فکر یا قوم کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
۱. شہید زندہ اور قائم رہتا ہے
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ظالم اپنی مادی طاقت کے باوجود ہار جاتا ہے اور مظلوم اپنی لازوال قربانی سے ہمیشہ کے لیے جیت جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید کا نام مٹ گیا، لیکن امام حسین علیہ السلام کا ذکر آج بھی دنیا کے ہر کونے میں گونج رہا ہے۔
"ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احیاء"
(اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں۔)
امام حسین علیہ السلام کی یاد منا کر شعیانِ علیؑ دنیا کو بتاتے ہیں کہ جو حق پر کٹ گیا، وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ شہید تاریخ کو موڑ دیتا ہے اور انسانیت کے ضمیر کو جلا بخشتا ہے۔
۲. حسینؑ کا پیغام: قوموں کی بقا کا ضامن
جب کوئی قوم جمود کا شکار ہو جائے، جب ظلم و سبر کو تقدیر مان لیا جائے، اور جب انسانی اقدار پامال ہونے لگیں، تو وہاں حسینیت کا پیغام قوموں کے لیے آبِ حیات کا کام کرتا ہے۔
ظلم کے سامنے نہ جھکنا: امام حسینؑ کا "ہیہات منا الذلہ" (ہم ذلت کو قبول نہیں کرتے) کا نعرہ آج بھی دنیا کے ہر مظلوم کے لیے حوصلہ ہے۔
حق کا تحفظ: کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر حق کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کرنا پڑے، تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو مٹنے سے بچاتا ہے اور ان کی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔
۳. دلوں میں تقویٰ اور صبر کا پختہ یقین
محرم الحرام کی مجالس اور عزاداری صرف آنسو بہانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی تربیت گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی یاد ہمارے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے:
خدا کے لیے تقویٰ: جب ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسینؑ نے تیروں کے سائے میں بھی نمازِ عشق ادا کی، تو دل میں اللہ کی محبت اور تقویٰ کا یقین اور پختہ ہو جاتا ہے۔
صبر پر یقین: مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کا یہ فرمانا کہ "میں نے کربلا میں خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا"، انسان کو صبرِ جمیل کی اعلیٰ ترین منزل سے روشناس کراتا ہے۔ یہ صبر انسان کو ہر مشکل حالات میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا سکھاتا ہے۔
کلمہِ اختتام
شعیانِ حیدرِ کرار ۱۰ محرم کو جو فرشِ عزا بچھاتے ہیں، وہ دراصل دنیا کو امن، انصاف اور حریت کا پیغام دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا غم ہمیں ایک بہتر انسان بناتا ہے، ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، اور ہمیں یہ حوصلہ دیتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، فتح ہمیشہ سچائی اور حق کی ہی ہوتی ہے۔
سلام بر حسینؑ اور سلام بر کربلا کے وفاداروں پر!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں