قبیلہ بنو اسد اور تدفینِ شہدائے کربلا
قبیلہ بنو اسد اور تدفینِ شہدائے کربلا
موقع اور پسِ منظر: 10 محرم الحرام 61 ہجری کو امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد، عمر بن سعد کی فوج نے 11 محرم کو اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو دفنایا اور اہل بیتِ اطہار کے لٹے ہوئے قافلے (اسیرانِ کربلا) کو قیدی بنا کر کوفہ کی طرف روانہ کر دیا۔ شہدائے کربلا کے پاک اجسامِ مبارک دو دن تک تپتے ہوئے صحرا میں بغیر تدفین کے موجود رہے۔
کربلا آمد: قبیلہ بنو اسد کی ایک بستی کربلا کے قریب ہی (الغاضریہ کے مقام پر) آباد تھی۔ جب عمر بن سعد کی فوج وہاں سے چلی گئی، تو اس قبیلے کے لوگ (جن میں خواتین نے مردوں کو غیرت دلائی اور ابھارا) مقتل کی طرف آئے۔ وہ 13 محرم الحرام (کچھ روایات کے مطابق 12 محرم) کو میدانِ کربلا پہنچے۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی آمد: روایات کے مطابق، جب بنو اسد کے لوگ وہاں پہنچے تو وہ پریشان تھے کیونکہ وہ جسموں کو پہچان نہیں پا رہے تھے اور یزیدی فوج کے خوف کا عنصر بھی موجود تھا۔ اسی دوران، امام زین العابدین علیہ السلام معجزاتی طور پر قید سے (طے الارض کے ذریعے) وہاں پہنچے۔ انہوں نے بنو اسد کے لوگوں کی رہنمائی کی، اپنے والد گرامی امام حسینؑ، چچا عباسِ علمدارؑ اور دیگر تمام شہداء کی ایک ایک کر کے نشان دہی فرمائی اور اپنے ہاتھوں سے انہیں قبروں میں اتارا۔ بنو اسد کے لوگوں نے اس تدفین میں امامؑ کی مدد کی اور یوں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
تاریخِ اسلام میں قبیلہ بنو اسد کی اس ہمت اور خدمت کو ہمیشہ انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اس سخت ترین وقت میں سید الشہداءؑ اور ان کے انصار کی تدفین کی سعادت حاصل کی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں