شام سے مدینہ کی طرف واپسی: جب اسیرانِ کربلا کا گزر دوبارہ مقتل سے ہوا
سفرِ عشق کی ہر منزل بھاری تھی، لیکن وہ موڑ سب سے زیادہ دلخراش تھا جب دمشق کے قید خانے سے رہائی پا کر، لٹے ہوئے قافلے نے مدینہ کی طرف رخ کیا۔ اِس خستہ حال اور غریب الوطن قافلے کی سالار عالیہ مخدرہِ اسلام، حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں۔ جب قافلہ مدینہ کے راستے پر روانہ ہوا، تو ایک ایسا مقام آیا جہاں دل تھم گئے اور آنکھیں پھر سے خون کے آنسو رونے لگیں۔ وہ مقام تھا کرسیِ کربلا—جہاں سے اِن اسیروں کا گزر ایک بار پھر ہو رہا تھا۔
جب قافلے کا رخ کربلا کی طرف موڑا گیا
روایات میں آتا ہے کہ جب یزید کے قید خانے سے اہل بیتِ اطہارؑ کو رہائی ملی، تو انہوں نے قافلے کے رہنما سے ایک خواہش کا اظہار کیا۔ سیدہ زینبؑ نے فرمایا:
"ہمیں مدینہ جانے سے پہلے ایک بار کربلا کی طرف لے چلو، تاکہ ہم اپنے شہیدوں سے رخصت ہو سکیں اور ان کی بے گور و کفن قبروں پر جی بھر کر رو سکیں۔"
جب یہ لٹا ہوا قافلہ دوبارہ کربلا کی زمین پر پہنچا، تو یہ منظر تاریخ کا سب سے رقت آمیز منظر تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں چند ماہ قبل خیمے جلائے گئے تھے، جہاں ننھے علی اصغرؑ کا خون بہا تھا، اور جہاں امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک تن سے جدا کیا گیا تھا۔
مقتل کا منظر اور بیبیوں کا کہرام
جب اسیرانِ کربلا نے دوبارہ اس تپتی ہوئی سرزمیں پر قدم رکھا، تو غم کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ وہ بیبیاں جو دمشق کے بازاروں اور درباروں میں صبر کا پیکر بنی رہیں، آج اپنے عزیزوں کی مٹی پر گر کر بے ساختہ رو پڑیں۔
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی حسینؑ کی لٹی ہوئی آرام گاہ کی طرف دوڑیں اور خاکِ کربلا کو سر پر ڈال کر فریاد کرنے لگیں: "اے میرے مظلوم بھائی! زینبؑ قید خانے سے رہا ہو کر آئی ہے، لیکن اپنی سکینہؑ کو وہیں چھوڑ آئی ہے۔"
حضرت امِ کلثومؑ اور دیگر مستورات اپنے بھائیوں، بیٹوں اور بھتیجوں کی قبروں سے لپٹ گئیں۔
امام زین العابدین علیہ السلام، جو اس پورے سفر میں غم و اندوہ کا پہاڑ اپنے سینے پر سمیٹے ہوئے تھے، اپنے پاک اجداد کی قبروں پر سر رکھ کر رو دیے۔
یہ نوحہ گری، یہ ماتم اور یہ پُرسہ صرف چند گھنٹوں کا نہیں تھا، بلکہ تاریخ لکھتی ہے کہ تین دن تک کربلا کی دھرتی ان مظلوموں کے نالوں سے گونجتی رہی۔
جابر بن عبداللہ انصاری سے ملاقات
اسی دوران، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابی، حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے مدینہ سے کربلا پہنچ چکے تھے۔ جب انہوں نے اہل بیتؑ کے اس لٹے ہوئے قافلے کو آتے دیکھا، تو وہ تڑپ اٹھے۔ تاریخِ اسلام میں یہ پہلا موقع تھا جب کربلا کے میدان میں پہلی بار باقاعدہ عزاداری اور پُرسہ داری کی محفل سجی، جہاں صحابیِ رسولؐ اور آلِ رسولؐ نے مل کر سید الشہداءؑ کا ماتم کیا۔
کربلا سے مدینہ: الوداعی سفر
تین دن کی آہ و بکا کے بعد، امام زین العابدینؑ نے محسوس کیا کہ بیبیوں کی حالت غیر ہو رہی ہے اور غم کی شدت ان کی جان لے سکتی ہے۔ چنانچہ، آپؑ نے قافلے کو دوبارہ مدینہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔
کربلا کی مٹی کو الوداع کہنا اسیروں کے لیے آسان نہ تھا۔ سیدہ زینبؑ نے جب مقتل سے رخ موڑا، تو ان کا دل وہیں چھوٹ گیا تھا۔ یہ واپسی کا سفر اس عہد کا تجدید تھا کہ جو پیغام امام حسینؑ نے اپنے خون سے لکھا تھا، اسے اب سیدہ زینبؑ اپنی خطابت اور امام سجادؑ اپنے آنسوؤں سے پوری دنیا میں عام کریں گے۔
بلاگ کا خلاصہ (حرفِ آخر)
اسیرانِ کربلا کا دوبارہ کربلا سے گزرنا محض ایک اتفاقی سفر نہیں تھا، بلکہ یہ فتحِ مظلومیت کا اعلان تھا۔ جو قافلہ مقتل سے بے سر و سامانی کی حالت میں گیا تھا، وہ دمشق کے تخت و تاج کو ہلانے کے بعد فاتح بن کر لوٹا تھا۔ کربلا کی مٹی گواہ ہے کہ یزید مٹ گیا، لیکن حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کا نام اور ان کا پیغام آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
اگر آپ کو یہ بلاگ پسند آیا ہو، تو اسے اپنے دوستوں اور سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ ذکرِ اہل بیتؑ عام ہو سکے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں