طاہر سرور میر: پاکستانی صحافت کا روشن و درخشندہ باب — ایک خراجِ تحسین
طاہر سرور میر: پاکستانی صحافت کا روشن و درخشندہ باب — ایک خراجِ تحسین
پاکستانی صحافت اور ثقافت کے افق پر چند نام ایسے ہیں جن کی خدمات کو وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔ انہی معتبر ناموں میں سے ایک نمایاں ترین نام طاہر سرور میر صاحب کا ہے۔
طاہر سرور میر 100% سچے اور بااصول صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے طویل اور شاندار صحافتی کیریئر میں لا تعداد باکمال اور ٹیلنٹڈ فنکاروں کو تلاش کر کے اپنے قلم اور کیمرے کے ذریعے دنیا سے متعارف کروایا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بے شمار فنکار آج بھی ان کی اس بے لوث کاوش کا اعتراف کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
میری نظر میں شوبر کا کوئی بھی صحافی طاہر سرور میر صاحب جتنا باریک بین اور تکنیکی طور پر اتنا مضبوط نہیں۔ وہ نہ صرف اچھے سر اور تال کی گہری سمجھ رکھتے ہیں، بلکہ کیمرہ، لائٹس، کہانی، اسکرپٹ، ڈائریکشن اور پروڈکشن کی بھی زبردست حس (Sense) رکھتے ہیں۔ وہ بڑے سے بڑے معتبر اور پیچیدہ ایشو کو اپنے تدبرانہ اور سنجیدہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اسی فنی مہارت کی وجہ سے ان کے کام کی شہرت دنیا بھر کے ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔
فردوس جمال اور سلطان راہی مرحوم کا معاملہ: ایک تکنیکی اور منصفانہ زاویہ
شوبز کی دنیا میں اکثر تنازعات اور مختلف آراء جنم لیتی رہتی ہیں۔ سینئر اداکار فردوس جمال اور پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ سلطان راہی مرحوم سے متعلق معاملے کو اگر تکنیکی اور منصفانہ زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں صحافتی دیانت داری اور غیر جانبدارانہ تجزیے کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
کسی بھی معاملے کو جذباتی سطح سے ہٹ کر اس کے فنی و تکنیکی پہلوؤں سے پرکھنا ہی ایک باضمیر اور باریک بین صحافی کی پہچان ہوتا ہے۔
حیدر سلطان کا موقف اور طاہر سرور میر صاحب کا تدبرانہ طرزِ عمل
اس تمام تر معاملے میں جہاں سلطان راہی مرحوم کے فرزند حیدر سلطان نے اپنا موقف سامنے رکھا، وہیں طاہر سرور میر صاحب نے انتہائی سنجیدگی، تدبر اور عالی شان صحافتی اخلاقیات کا مظاہرہ کیا۔
ان کا تدبرانہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک تجربہ کار صحافی کس طرح تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر فریقین کے احترام، سچائی اور فنی توازن کو برقرار رکھتا ہے۔
طاہر سرور میر صاحب صرف ایک صحافی، کالم نگار یا اینکر نہیں ہیں، بلکہ وہ گلی کوچوں سے گمنام ہنر تلاش کرنے والے ایک ایسے جوہری ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی فن اور فنکار کی آبیاری کے لیے وقف کر دی۔ ان کا طرزِ صحافت نچلی سطح کے فنکاروں کی سرپرستی اور شوبز انڈسٹری میں حق اور انصاف کی آواز بننے سے عبارت ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں