"میری پہلی شادی محبت نہیں، حماقت تھی!" — حسن نثار کا اپنی ذات اور زندگی کے بلنڈرز پر بے باک اعتراف
پاکستان کے معروف اور منجھے ہوئے سینئر کالم نگار و تجزیہ کار حسن نثار اکثر اپنے بے لاگ تبصروں اور کڑوی سچائیوں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات سے ہٹ کر اپنی ذاتی زندگی کے وہ پوشیدہ گوشے وا کیے ہیں جن پر عام طور پر لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔
اپنے روایتی انداز میں بات کرتے ہوئے حسن نثار نے اپنی ماضی کی زندگی، ناکام تجربات اور ان غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا جنہیں وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے "بلنڈرز" قرار دیتے ہیں۔
"پہلی شادی محبت نہیں، حماقت تھی"
انٹرویو کے دوران جب ان سے ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے کہا:
"انسان اپنی زندگی میں غلطیاں تو بہت کرتا ہے، لیکن میری پہلی شادی محبت نہیں بلکہ ایک حماقت تھی۔"
حسن نثار کا کہنا تھا کہ زندگی کے اس موڑ پر لیا گیا وہ فیصلہ جذبات اور ناپختگی پر مبنی تھا، جسے وقت نے ثابت کیا کہ وہ محبت کا جذبہ نہیں بلکہ محض ایک بھول اور حماقت تھی۔
زندگی کا دوسرا بڑا بلنڈر: 30 سال کی عمر میں پاکستان نہ چھوڑنا
اپنی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے حسن نثار نے ایک اور حسرت اور پچھتاوے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان سے غلطیاں (Errors) تو ہوتی رہتی ہیں، لیکن کچھ فیصلے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ "بلنڈر" بن جاتے ہیں۔
ان کے بقول، ان کی زندگی کا دوسرا بڑا بلنڈر یہ تھا کہ انہوں نے 30 سال کی عمر میں پاکستان چھوڑ کر باہر منتقل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ جس صلاحیت اور فکر کے وہ مالک تھے، اگر وہ اس عمر میں ملک سے باہر چلے جاتے تو شاید حالات اور نتائج بالکل مختلف ہوتے۔
"لیکن اب مجھے پاکستان سے محبت ہو چکی ہے..."
اگرچہ حسن نثار نے ماضی میں ملک نہ چھوڑنے کو اپنی غلطی قرار دیا، لیکن گفتگو کے اختتام پر ان کا وطن سے جڑا جذبہ بھی کھل کر سامنے آیا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا:
"یہ سچ ہے کہ مجھے 30 سال کی عمر میں چلے جانا چاہیے تھا... لیکن اب میں کیا کروں؟ اب مجھے اس پاکستان سے محبت ہو چکی ہے۔"
ان کے اس جملے نے ثابت کر دیا کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں اور شکایتیں کتنی ہی کیوں نہ ہوں، اپنے وطن کی مٹی سے محبت کا رشتہ توڑا نہیں جا سکتا۔
حسن نثار کا یہ انٹرویو جہاں ان کی شخصیت کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتا ہے، وہیں انسان کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ زندگی میں کیے گئے فیصلے کس طرح انسان کے مستقبل کی سمت طے کرتے ہیں۔ غلطیوں کو تسلیم کرنا اور پھر بھی اپنی مٹی سے جڑے رہنا ہی ایک حقیقی اور کھرے انسان کی پہچان ہے۔
#HassanNisar#HassanNisarInterview#UrduBlog#Columnist#PersonalLife#Pakistan
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں