کربلا کی خاک پر پہلا زائر: رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی کی داستانِ عشق
واقعہ کربلا تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم اور دلخوز سانحہ ہے جس کی کسک ہر حساس دل میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ 10 محرم 61
ہجری کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے 72 جانثاروں کی شہادت کے بعد، جب کربلا کا میدان لاشوں سے پٹ چکا تھا اور اہلِ بیتِ رسول کے مخدرات کو اسیر بنا کر لے جایا جا چکا تھا، تو اس اجڑ جانے والے دشت میں سب سے پہلے پہنچنے والی عظیم شخصیت کون تھی؟
تاریخ ہمیں ایک ایسے بوڑھے، نابینا لیکن بصیرتِ دل سے مالامال صحابیِ رسول کا نام بتاتی ہے جنہیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رضی اللہ عنہ) کہا جاتا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کون تھے؟
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) کا شمار سرکارِ دو عالم ﷺ کے قریبی اور وفادار صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے بیعتِ عقبہ، غزوہ بدر اور احد سمیت کئی معرکوں میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت تھی، اور حضور ﷺ نے خود زندگی میں انہیں یہ نوید دی تھی کہ "جابر! تم میری نسل سے ایک ایسے بچے (امام محمد باقر) سے ملو گے جس کا نام میرے نام پر ہوگا، اسے میرا سلام کہنا۔"
کربلا کی طرف سفرِ عشق
جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر مدینہ منورہ اور دیگر علاقوں میں پہنچی، تو عالمِ اسلام میں ایک کہرام مچ گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اس وقت ضعیف العمر ہو چکے تھے اور ان کی بینائی بھی چلی گئی تھی۔ لیکن امام حسینؑ کی محبت انہیں گھر پر نہ رکھ سکی۔
آپ نے اپنے شاگرد اور قریبی ساتھی عطیہ عوفی کا ہاتھ تھاما اور مدینہ سے کربلا کی طرف رختِ سفر باندھا۔ یہ سفر کوئی عام سفر نہیں تھا، یہ ایک بوڑھے صحابی کا اپنے آقا کے نواسے کی مٹی پر نوحہ پڑھنے کا سفر تھا۔
میدانِ کربلا میں آمد اور رقت آمیز منظر
جب حضرت جابر بن عبداللہ انصاری 20 صفر (شہادت کے چالیسویں دن، جسے اربعین کہا جاتا ہے) کربلا پہنچے، تو تاریخِ طبری اور دیگر کتب کے مطابق وہاں کا منظر انتہائی رقت آمیز تھا۔
فرات کے غسل سے شروعات: کربلا پہنچ کر حضرت جابر نے سب سے پہلے دریائے فرات کے پانی سے غسل کیا، پاکیزہ لباس پہنا، خوشبو لگائی اور نہایت عاجزی کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مطہر کی طرف قدم بڑھائے۔
قبرِ حسینؑ پر غش آنا: چونکہ آپ نابینا تھے، انہوں نے عطیہ عوفی سے کہا کہ "میرا ہاتھ حسینؑ کی قبر پر رکھو۔" جیسے ہی ان کا ہاتھ قبر کی مٹی پر پڑا، آپ ایک زوردار چیخ مار کر بے ہوش ہو گئے۔
حسینؑ سے کلام: جب ہوش آیا تو انہوں نے قبرِ مطہر کو مخاطب کر کے تین بار کہا: "یا حسین! یا حسین! یا حسین!" پھر رو کر کہنے لگے: "حبیبٌ لا یُجیبُ حبیبَہ" (کیا ایک دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیتا؟)۔ پھر خود ہی جواب دیا: "آپ کیسے جواب دیں گے، جبکہ آپ کے سر مبارک کو تن سے جدا کر دیا گیا اور آپ کی رگیں کاٹ دی گئیں!"
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نبیِ رحمت کے فرزند ہیں، تقویٰ کے ستون ہیں، اور ہدایت کے امام ہیں۔ آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری اور مظلومانہ شہادت پائی۔"
— (حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کے الفاظ، بحوالہ کتبِ تاریخ)
شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت
امام حسین علیہ السلام کی قبر پر گریہ و زاری کرنے کے بعد، حضرت جابر نے کربلا کے دیگر شہدا کی قبور کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
"اے کربلا کے شہدا! میں گواہی دیتا ہوں کہ جس عظیم مقصد میں آپ نے اپنی جانیں قربان کیں، ہم بھی اس میں آپ کے شریک ہیں۔"
عطیہ عوفی نے حیرت سے پوچھا: "اے جابر! ہم ان کے اجر میں کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟ جبکہ نہ ہم نے تلوار چلائی، نہ نیزہ جھیلا، اور ان لوگوں کے سر تن سے جدا کر دیے گئے اور بچے یتیم ہو گئے؟"
حضرت جابر نے تاریخی جواب دیا:
"اے عطیہ! میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ 'جو شخص جس قوم کے عمل سے محبت رکھتا ہے، وہ (قیامت کے دن) انہی کے ساتھ محشور کیا جائے گا۔' خدا کی قسم! میرا اور میرے ساتھیوں کا ارادہ اور نیت وہی ہے جو حسینؑ اور ان کے اصحاب کی تھی۔"
بلاگ کا خلاصہ
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا کربلا پہنچنا اس بات کی دلیل ہے کہ حق اور باطل کی اس معرکے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے اصحاب کا دل کس کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔ آج دنیا بھر سے جو کروڑوں زائرین اربعین (چلم) کے موقع پر کربلا جاتے ہیں، وہ دراصل اسی سنتِ جابری کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ایک نابینا مگر دل کی آنکھیں روشن رکھنے والے صحابیِ رسول نے رکھی تھی۔
سلام ہو امام حسین علیہ السلام پر، اور سلام ہو ان کے زائرین پر!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں