آلِ نبیؐ کا احسان اور توحیدِ الٰہی: مناجاتِ امام سجادؑ
تمام تعریفیں عالمین کے رب کے لیے ہیں، جس نے ہمیں آلِ نبی ﷺ میں مبعوث کیا (اور ان کی محبت و معرفت سے نوازا)۔
یہ اللہ کا وہ عظیم احسان ہے جس کا شکر بندہ کبھی ادا نہیں کر سکتا۔ آلِ محمدؑ نے کائنات کو جینے کا سلیقہ ہی نہیں سکھایا، بلکہ جب دنیا شرک، مصلحت اور غفلت کے اندھیروں میں ڈوب رہی تھی، تو انہوں نے توحیدِ خالص کا وہ نور پیش کیا جس نے انسانی عقلوں کو چونکا دیا۔
سید الساجدین، امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں توحید کا وہ سمندر ہیں جہاں پہنچ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ خدا کی عظمت کیا ہے اور انسان کی بندگی کی حقیقت کیا ہے۔
آئیے! امام سجاد علیہ السلام کے کلام کے آئینے میں توحیدِ باری تعالیٰ پر مبنی ایک دلنشین مناجات پڑھتے ہیں اور اپنے دلوں کو اللہ کی واحدانیت کے نور سے منور کرتے ہیں:
مناجاتِ توحید: صرف تو ہی لائقِ عبادت ہے!
اے اللہ! اے کائنات کے اکیلے اور تنہا مالک! تیری ذات وہ ہے جسے کسی نے جنم نہیں دیا اور نہ تو کسی سے پیدا ہوا، تیری کوئی مصلحت یا شریک نہیں، اور نہ ہی تیری سلطنت میں کوئی تیرا ثانی ہے۔ تو اس وقت بھی تھا جب کچھ نہ تھا، اور تو اس وقت بھی رہے گا جب سب کچھ فنا ہو جائے گا۔
میرے معبود! عقلیں تیری ذات کی گہرائی تک پہنچنے سے عاجز ہیں، اور آنکھیں تیرے جلال و جمال کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ تو اپنے بندوں سے ان کی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے، لیکن ہماری غافل آنکھیں تجھے دیکھ نہیں پاتیں۔ تو بغیر کسی وسیلے کے سب کی سنتا ہے، اور بغیر کسی وزیر و مشیر کے پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔
عظمتِ الٰہی اور انسانی عاجزی
اے پاک پروردگار! ہر ستارہ تیری تسبیح پڑھتا ہے، ہر ذرہ تیرے وجود کی گواہی دیتا ہے، اور کائنات کا پورا نظام تیرے ہی حکم کا تابع ہے۔ تو وہ غنی ہے جسے ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں، لیکن ہم وہ محتاج ہیں جو تیری رحمت کی ایک نظر کے بغیر ایک سانس بھی نہیں لے سکتے۔
"الٰہی! تیرے سوا کوئی ایسا نہیں جو گناہوں کو معاف کر سکے، تیرے سوا کوئی ایسا نہیں جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ سکے، اور تیرے سوا کوئی ایسا معبود نہیں جس کے سامنے بندگی کا سر جھکایا جا سکے۔ تو ہی اول ہے اور تو ہی آخر ہے۔"
خالص بندگی کا سوال
اے واحد و یکتا رب! ہمارے دلوں سے غیر اللہ کا خوف اور دنیا کا لالچ نکال دے۔ ہمیں ایسی توحیدِ خالص عطا فرما کہ ہماری امیدیں صرف تجھ سے وابستہ ہوں، ہمارا مصلّیٰ صرف تیرے لیے بچھے، اور ہماری آنکھوں سے نکلنے والا ہر آنسو صرف تیرے خوف اور تیری محبت میں ہو۔
ہمیں دنیا کے سامنے جھکنے سے بچا لے، کیونکہ جس نے تیرے سامنے سر جھکا دیا، اسے پھر کسی اور کے سامنے سر جھکانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
دعائیہ اختتام
اے کائنات کے اکیلے پروردگار! ہمیں آلِ رسول ﷺ کے دکھائے ہوئے توحید کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔ ہماری زندگی کا خاتمہ ایمانِ کامل اور تیری رضا پر فرما۔
بلاشبہ، ہر قسم کی تعریف، بزرگی اور بادشاہت صرف اور صرف تیرے ہی لیے ہے۔ (آمین، یا رب العالمین)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں