پٹھان کالونی میں کشتیاں چلنے لگیں: بند توڑ کر سیلاب کا پانی آبادی میں چھوڑ دیا گیا، ریسکیو کا دور دور تک نام و نشان نہیں
لاہور: نالہ دیک اور دریائے راوی کے قریب واقع پٹھان کالونی میں اس وقت حالات انتہائی کشیدہ اور دردناک ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر بند توڑ کر سیلاب کا پانی سیدھا آبادی کی طرف موڑ دیے جانے کے بعد علاقہ مکمل طور پر زیرِ آب آ چکا ہے، اور اب سڑکوں پر گلیوں کی جگہ کشتیاں چل رہی ہیں۔
🌊 بند توڑ کر آبادی کو ڈبو دیا گیا؟
مقامی رہائشیوں کے مطابق انتظامیہ نے دیگر علاقوں کو بچانے کے لیے پٹھان کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی کا تیز بہاؤ سیدھا غریب آبادی میں داخل ہو گیا۔
گھروں میں پانی: دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں گھر پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔
مال و اسباب کی تباہی: لوگوں کا قیمتی سامان، راشن اور جمع پونجی پانی میں بہہ گئی یا شدید متاثر ہوئی۔
چھتوں پر محصور شہری: بہت سے خاندان اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے ہی گھروں کی چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔
"ہمیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ہمارے گھر ڈوب چکے ہیں اور ہم اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو نکال رہے ہیں۔"
— ایک متاثرہ مقامی رہائشی
🚨 پنجاب حکومت اور ریسکیو ٹیموں کی غیر موجودگی
سب سے زیادہ افسوسناک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی آفت کے باوجود پنجاب حکومت یا ریسکیو 1122 کی کوئی ٹیم موقع پر نہیں پہنچی۔
ریسکیو آپریشن کا فقدان: پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باوجود امدادی کارروائیوں کے لیے کوئی سرکاری بوٹ (کشتی) یا ہیلی کاپٹر نہیں بھیجا گیا۔
عوامی غصہ: مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی نمائندے اور ریسکیو حکام صرف میڈیا کی حد تک متحرک ہیں، جبکہ زمینی سطح پر پٹھان کالونی کے لوگ بے یارو مددگار پڑے ہیں۔
کھانے پینے اور پینے کے صاف پانی کی قلت: ڈوبے ہوئے گھروں میں راشن خراب ہو چکا ہے، اور پینے کے صاف پانی کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔
🛶 اپنی مدد آپ کے تحت محصورین کا انخلا
حکومتی عدم توجہی کے بعد مقامی افراد نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی مدد آپ کے تحت لکڑی کے تختوں اور مقامی کشتیوں کے ذریعے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے یہ کام انتہائی خطرے سے خالی نہیں ہے۔
📢 فوری مطالبات
پٹھان کالونی کے رہائشیوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:
فوری ریسکیو: ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور بوٹس فوراً پٹھان کالونی بھیجی جائیں تاکہ محصور افراد کو نکالا جا سکے۔
امدادی کیمپ: متاثرین کے لیے فوری طبی کیمپ اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
بند کی مرمت: سیلابی پانی کے رخ کو آبادی سے موڑنے کے لیے فوری فنی اقدامات کیے جائیں۔
ہماری اپیل: اگر آپ یا آپ کی کوئی تنظیم اس علاقے میں امدادی کارروائیاں کر سکتی ہے تو فوراً آگے بڑھیں، پٹھان کالونی کے بہن بھائی اس وقت آپ کی مدد کے شدید منتظر ہیں!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں