سید الساجدین حضرت امام زین العابدینؑ: عبادت کا نور اور معرفت کا سمندر


 کربلا کے خونی معرکے کے بعد، جہاں آلِ محمدؐ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، اسلام کی روح کو بچانے اور مظلومیت کا پیغام دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری جس عظیم ہستی کے کندھوں پر آئی، انہیں تاریخ "امام زین العابدین" (عابدوں کی زینت) اور "سید الساجدین" (سجدہ کرنے والوں کے سردار) کے نام سے جانتی ہے۔

25 محرم الحرام (بعض روایات کے مطابق 12 محرم) چوتھے تاجدارِ امامت، حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام کا یومِ شہادت ہے۔ آئیے اس موقع پر امام عالی مقام کی معرفت اور ان کی حیاتِ مبارکہ کے چند روشن پہلوؤں پر روشنی ڈالیں۔

امام زین العابدینؑ کی معرفت: ایک لازوال کردار

امام زین العابدینؑ کی زندگی کا سب سے بڑا درس خدا کی پہچان (معرفت) اور اس کے سامنے بندگی کا اظہار ہے۔ کربلا کے بعد اموی حکمرانوں نے حق کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن امامؑ نے تلوار کے بغیر، اپنے کردار، خطبات اور دعاؤں کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔

1۔ دعا اور مناجات کے ذریعے انقلاب

میدانِ کربلا کے بعد جب زبانوں پر تالے لگا دیے گئے تھے، تو امام زین العابدینؑ نے "دعا" کو اپنا ہتھیار بنایا۔ آپ کی دعاؤں کا مجموعہ "صحیفہ سجادیہ" (جسے زبورِ آلِ محمدؐ بھی کہا جاتا ہے) صرف اللہ سے مانگنے کا طریقہ نہیں، بلکہ معرفتِ الٰہی، اخلاقیات، کائنات کے اسرار اور سیاسی و سماجی شعور کا ایک بے مثال انسائیکلوپیڈیا ہے۔

2۔ سجدوں کی کثرت اور خوفِ خدا

جب آپؑ وضو فرماتے تو خوفِ خدا سے آپ کا رنگ زرد ہو جاتا۔ پوچھنے پر فرماتے: "کیا تم جانتے ہو کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہونے جا رہا ہوں؟" آپؑ راتوں کو اٹھ کر خدا کی بارگاہ میں اتنے لمبے سجدے کرتے کہ پیشانی پر گٹے پڑ جاتے تھے، اسی لیے آپ کو "سجاد" کہا جاتا ہے۔

3۔ مخفی سخاوت (غریبوں کے ہمدرد)

مدینہ منورہ میں سینکڑوں ایسے گھرانے تھے جن کا چولہا روز رات کو جلتا تھا، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ راشن کون دے جاتا ہے۔ امامؑ کی شہادت کے بعد جب ان کے غسل کے دوران آپؑ کی پشتِ مبارک پر سیاہ نشان دیکھے گئے، تب مدینہ والوں کو معلوم ہوا کہ چوتھا امامؑ رات کے اندھیرے میں خود اپنے کندھوں پر آٹے اور کھجوروں کی بوریاں اٹھا کر غریبوں کے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے۔

اسیرِ کربلا اور شام کا بازار

امام زین العابدینؑ کا سب سے بڑا جہاد کربلا کے بعد اسارت (قید) کے دنوں میں تھا۔ بیمار ہونے کے باوجود، آپؑ کو بھاری زنجیروں اور طوق میں جکڑا گیا۔ لیکن جب آپؑ نے یزید کے دربار میں خطبہ دیا، تو مظلومیت کی طاقت سے جابر حکمران کا تخت ہل گیا۔

آپؑ نے اپنے خطبے میں فرمایا:

"اے لوگو! ہمیں خدا نے چھ خصوصیات اور سات فضیلتوں سے نوازا ہے... ہم میں سے ہی طیار ہیں، ہم میں سے ہی اللہ کے شیر (علیؑ) ہیں، اور ہم میں سے ہی اس امت کے مہدیؑ ہیں۔"

اس خطبے نے یزید کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ جنہیں باغی کہہ کر لایا گیا ہے، وہ تو خود نواسہ رسولؐ ہیں۔

شہادتِ امام زین العابدینؑ

امامؑ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ان کا تقویٰ اور بنی امیہ کے مظالم کے خلاف ان کا خاموش لیکن اثر انگیز کردار وقت کے اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کو ہضم نہ ہو سکا۔ وہ جانتا تھا کہ جب تک علی بن الحسینؑ زندہ ہیں، حکومت کا جھوٹا جاہ و جلال قائم نہیں رہ سکتا۔

چنانچہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت امام عالی مقام کو زہر دے دیا گیا۔ زہر کے اثر سے آپؑ شدید بیمار ہوئے اور 25 محرم الحرام کو دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آپؑ کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں آپ کے چچا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

آج کے دور میں امامؑ کی معرفت کی ضرورت

امام زین العابدینؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، حق کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جب معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو جائے، تو اپنی بندگی، سچائی اور دعا کے ذریعے ماحول کو بدلا جا سکتا ہے۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم صرف آپؑ کی شہادت پر آنسو نہ بہائیں، بلکہ "صحیفہ سجادیہ" اور آپؑ کے لکھے ہوئے "رسالۃ الحقوق" (حقوق کا چارٹر) کا مطالعہ کریں تاکہ ہمیں زندگی گزارنے کی حقیقی معرفت حاصل ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سید الساجدینؑ کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اگر آپ کو یہ بلاگ پسند آیا ہو تو اسے اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ شیئر کریں اور کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی