شکاری خود شکار ہو گیا: جیدا لسی والا بمقابلہ وکی پانڈا — 10 کروڑ کا ہتکِ عزت کا نوٹس!
سوشل میڈیا کی دنیا میں کب کیا ہو جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہاں راتوں رات شہرت پانے والے سیکنڈوں میں زوال کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسا ہی بڑا معرکہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا جس نے انٹرنیٹ صارفین کو دنگ کر کے رکھ دیا۔ یہ جنگ تھی "جیدا لسی والا" اور مشہور بلاگر "وکی پانڈا" کے درمیان، جہاں ایک ایسا موڑ آیا کہ دیکھنے والے پکار اٹھیں: "شکاری خود شکار ہو گیا!"
اندرونی کہانی: معرکے کا آغاز کیسے ہوا؟
لاہور کے مشہور فوڈ پوائنٹ "جیدا لسی والا" کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اپنے منفرد انداز اور ذائقے کی وجہ سے جیدا لسی والا سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہے۔ دوسری طرف، وکی پانڈا اپنے ویلاگز اور ری ایکشن ویڈیوز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
لیکن اس کہانی کے پیچھے جو اصل سچائی جیدا لسی والا کی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آئی ہے، وہ انتہائی چونکا دینے والی ہے:
پیسوں کا مبینہ مطالبہ: جیدا لسی والا کی انتظامیہ کے مطابق، وکی پانڈا نے ویڈیو بنانے کی غرض سے اپنے ایک بندے کو دکان پر بھیجا۔ وہاں دبے الفاظ میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ اگر بہترین ریویو کروانا ہے، تو اس کے لیے بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔
مطالبہ پورا نہ ہونے کا بدلہ: جب جیدا لسی والا کی جانب سے یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا، تو وکی پانڈا نے مبینہ طور پر ایک پوڈ کاسٹ میں جیدا لسی والا کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ انہوں نے جیدا لسی کے دودھ اور دہی کو غیر معیاری اور کیمیکل زدہ قرار دے کر ان کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
شکاری کا اپنا شکار: 10 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس!
وکی پانڈا کا خیال تھا کہ وہ اپنی تیز زبان اور کیمرے کے زور پر کسی کے بھی کاروبار کو برباد کر دیں گے، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا:
جیدا لسی والا کا منہ توڑ جواب: اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف جیدا لسی والا نے خاموش رہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے وکی پانڈا کو ان کے الزامات پر 10 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس بھجوا دیا۔
شکاری خود شکار ہو گیا: جو وکی پانڈا کل تک یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنے ایک ریویو سے کسی بھی برانڈ کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے، آج وہ قانون اور سوشل میڈیا کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ وہ دوسروں کو نقصان پہنچاتے پہنچاتے خود کو ایک بہت بڑے قانونی اور مالیاتی نقصان سے نہ بچا سکا، اور یوں "شکاری خود اپنے بنے ہوئے جال میں شکار" ہو گیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے بنا دی درگت: معافی کے لیے رابطے تیز
جیسے ہی یہ اندرونی کہانی اور 10 کروڑ کے لیگل نوٹس کی خبر منظرِ عام پر آئی، سوشل میڈیا صارفین نے وکی پانڈا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر صارفین کا غصہ آسمان چھو رہا ہے اور وکی پانڈا کی خوب درگت بنائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اب اس قانونی شکنجے اور پبلک پریشر سے بچنے کے لیے وکی پانڈا کی جانب سے پسِ پردہ معافی تلافی اور صلح کے لیے رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔
خلاصہ: اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
یہ پورا ڈرامہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے:
بلیک میلنگ کا انجام عبرتناک ہوتا ہے: کیمرے اور فالوورز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کسی کو بلیک میل کر کے پیسے بٹوریں۔
قانون سب کے لیے برابر ہے: کسی کے حلال کاروبار پر جھوٹے الزامات لگا کر آپ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
جیدا لسی والا اور وکی پانڈا کا یہ ٹکراؤ بلا شبہ اس سال کا سب سے بڑا سوشل میڈیا سبق بن چکا ہے، جہاں حق کی فتح ہوئی اور بلیک میلنگ کرنے والا شکاری خود شکار ہو گیا۔
آپ کا اس پورے معاملے اور 10 کروڑ کے لیگل نوٹس پر کیا کہنا ہے؟ کیا ایسے بلیک میلر بلاگرز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں!
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں