”اتنے بڑے اداکار کو اتنا کم معاوضہ؟“ گلوکار ذیشان روکھڑی نے فلم ’مکھو‘ ٹھکرانے کی اصل وجہ بتا دی!
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اکثر ایسے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں جو مداحوں اور ناقدین کو حیران کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں معروف روایتی اور لوک گلوکار ذیشان روکھڑی نے مشہور میزبان حنا نیازی کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی کے سفر اور کیریئر کے حوالے سے کئی کھلی باتیں کیں۔ تاہم، گفتگو کا سب سے سنسنی خیز حصہ وہ تھا جب انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نامور ہدایتکارہ سنگیتا کی فلم ’مکھو‘ میں بطور ہیرو کام کرنے سے کیوں انکار کیا۔
اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ذیشان روکھڑی نے ایک بڑی فلم کا مرکزی کردار کیوں ٹھکرایا، تو کہانی انتہائی دلچسپ اور انڈسٹری کے تلخ حقائق پر مبنی ہے۔
جب سنگیتا صاحبہ نے خود رابطہ کیا۔۔۔
ذیشان روکھڑی نے بتایا کہ فلم ’مکھو‘ کے لیے معروف ہدایتکارہ سنگیتا نے خود ان سے رابطہ کیا تھا اور خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اس فلم میں مرکزی ہیرو کا کردار نبھائیں۔ ابتدائی طور پر ذیشان اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے فلم کو وقت نہیں دے پا رہے تھے، لیکن بعد میں جب ان کی سنگیتا صاحبہ سے باقاعدہ ملاقات ہوئی، تو فلم کی کہانی، کاسٹ اور بجٹ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
معمر رانا کا معاوضہ سن کر پیروں تلے زمین نکل گئی!
پوڈ کاسٹ کے دوران ذیشان روکھڑی نے اس ملاقات کا ایک ایسا احوال سنایا جس نے سب کو چونکا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب فلم کی کاسٹ اور پیسوں کی بات ہو رہی تھی، تو انہیں معلوم ہوا کہ فلم انڈسٹری کے سینئر اور نامور اداکار معمر رانا کو اس فلم کے لیے صرف 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
ذیشان کے الفاظ تھے:
”جب مجھے یہ پتہ چلا تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اتنے بڑے اور باصلاحیت اداکار کو، جس نے انڈسٹری کو سپر ہٹ فلمیں دیں، اتنا کم معاوضہ دینا میرے لیے ناقابلِ یقین تھا۔“
یہ بات ذیشان کے دل کو لگ گئی اور انہوں نے سوچا کہ اگر اتنے سینئر فنکار کی یہ قدر ہے، تو نئے آنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔
قریبی دوستوں کا مشورہ اور فلم چھوڑنے کا فیصلہ
اس واقعے نے ذیشان کو فلم سائن کرنے کے حوالے سے شدید تذبذب میں ڈال دیا۔ اسی دوران ان کے کچھ قریبی مخلص دوستوں اور شوبز سے وابستہ لوگوں نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ یہ فلم ان کے کیریئر کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی، بلکہ الٹا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کافی سوچ بچار کے بعد ذیشان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس فلم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ لیکن انہوں نے کوئی بہانہ بنانے کے بجائے سچائی اور احترام کا راستہ چنا۔
”ہاتھ جوڑ کر معذرت کی“
ذیشان روکھڑی نے بتایا کہ وہ خصوصی طور پر لاہور گئے اور سنگیتا صاحبہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے انتہائی ادب اور احترام کا دائرہ برقرار رکھتے ہوئے سنگیتا صاحبہ کے سامنے ہاتھ جوڑے اور معذرت کی کہ وہ یہ فلم نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے ہدایتکارہ کو مشورہ دیا کہ وہ ان کی جگہ کسی اور موزوں اداکار کو کاسٹ کر لیں۔
شوبز انڈسٹری میں ایک نئی بحث کا آغاز
ذیشان روکھڑی کا یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ فلمی دنیا میں بطور ہیرو ڈیبیو کرنا ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے، لیکن انہوں نے اپنے اصولوں کو ترجیح دی۔ ان کے اس بیان نے اب شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے:
کیا پاکستانی فلم انڈسٹری میں سینئر فنکاروں کو ان کا اصل مقام اور حق مل رہا ہے؟
کیا لالی ووڈ میں معاوضوں کا معیار اتنا گر چکا ہے؟
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ذیشان روکھڑی نے فلم ٹھکرا کر صحیح فیصلہ کیا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس سیکشن میں ضرور کریں۔
#ZeeshanRokhri #HinaNiaziPodcast #Mukho #PakistaniCinema #Lollywood #Sangeeta #MoammarRana #ShowbizPakistan #UrduBlog

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں