اندرونِ لاہور کی گلیوں سے اگست کی خوشبو: بچپن کے 14 اگست اور ہمارا جوشِ جنوں
اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی فضا میں ایک الگ ہی سرور اور تازگی گھل جاتی ہے۔ جب بھی تقویم (Calendar) کا یہ ورق پلٹتا ہے، ہواؤں میں سبز ہلالی پرچموں کی سرسراہٹ اور دلوں میں ایک انوکھی سی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔
خصوصاً جب آپ کا تعلق اندرونِ لاہور سے ہو، تو جشنِ آزادی کا یہ سارا منظر نامہ ہی بدل جاتا ہے۔ لاہور کے مزاج میں رچا بسا ہے ہر خوشی کو دل و جان سے منانا، اور جب بات ہو پاکستان کی آزادی کی، تو اندرونِ شہر کی تنگ و تاریک گلیاں بھی روشنیوں اور رنگوں میں نہا جاتی ہیں۔
بچپن کا 14 اگست اور اندرونِ لاہور کا جوشِ خروش
آج بھی جب اگست کا مہینہ آتا ہے، بچپن کی سنہری یادیں آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح گھوم جاتی ہیں۔ اس زمانے میں 14 اگست کا دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک تہوار ہوا کرتا تھا، جس کی تیاریاں کئی ہفتے پہلے شروع ہو جاتی تھیں۔
پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار: اندرونِ لاہور کی ہر گلی، ہر بازار اور ہر چھت سبز اور سفید جھنڈیوں سے سج جاتی تھی۔ دکانوں پر سجے رنگ برنگے بیجز (Badges)، ہتھوڑے والی سیٹیاں اور کاغذ کی ٹوپیاں خریدنے کا جو مزہ اس وقت تھا، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
بزرگوں کی زبانی تحریکِ آزادی کی کہانیاں: شام کو جب محلے کے بزرگ چبوتروں پر بیٹھتے، تو ہم گھٹنے ٹیک کر ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ ان کی زبان سے تحریکِ آزادی کے وہ ہولناک اور جذباتی واقعات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے کہ کس طرح ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دے کر یہ آزاد خطہ حاصل کیا۔ ان کہانیوں نے ہمارے دلوں میں وطن کی محبت کو ہمیشہ کے لیے نقش کر دیا۔
گھروں کا ماحول: عید جیسا سماں اور پرچم کا تقدس
اس دور میں 14 اگست کا دن کسی عید کے دن سے کم نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے گھروں میں اس دن کی تیاریوں کا ایک الگ ہی اہتمام ہوتا تھا:
"پاکستانی پرچم، جھنڈیوں اور بیجز کا احترام ہمارے گھروں میں اس مقدس امانت کی طرح کیا جاتا تھا جو ہمیں ورثے میں ملی ہو۔ پرچم کو کبھی زمین پر نہیں لگنے دیا جاتا تھا اور اسے انتہائی عقیدت کے ساتھ گھر کی سب سے اونچی جگہ پر لہرایا جاتا تھا۔"
صبح سویرے اٹھ کر نئے کپڑے پہننا (جن میں عموماً سفید شلوار قمیض اور سبز کُرتا شامل ہوتا تھا)۔
سینے پر پاکستان کا پرچم والا بیجز فخر سے سجانا۔
گھر کے تمام افراد کا مل کر قومی ترانہ گانا اور ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگنا۔
آئیے اپنی یادیں تازہ کریں!
وقت گزر گیا، ہم بڑے ہو گئے، اور زندگی کی مصروفیت نے شاید وہ بچپن کا سادگی والا جوش کچھ مدھم کر دیا ہو؛ لیکن اندرونِ لاہور کی مہکتی ہوئیلیوں اور گلیوں کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔
آئیے، اس اگست کے مہینے میں اپنے بچپن کی انھی پیاری یادوں کو تازہ کریں، اپنے بچوں کو اس دن کی اصل تاریخ اور اہمیت بتائیں، اور عہد کریں کہ ہم اپنے اس پیارے وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
پاکستان زندہ باد!
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں