چہلم امام حسین علیہ السلام کی ابتداء: اندرون دہلی دروازه لاہور کی تاریخی حویلی الف شاہ کا سفر

 

تاریخِ اسلام میں چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے عزاداری جلوسوں اور مجالس کا سلسلہ انتہائی قدیم اور عقیدت سے پُر ہے۔ جب ہم پاکستان میں چہلم کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں، تو لاہور کا نام اور خصوصاً اندرون دہلی دروازہ اس میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ لاہور میں چہلم کا پہلا باقاعدہ جلوس اور عزاداری کی بنیاد جہاں رکھی گئی، وہیں حویلی الف شاہ کا نام سرفہرست آتا ہے۔

آئیے اس تاریخی ورثے، الف شاہ صاحب کی شخصیت اور سکھ دورِ حکومت میں اجازت کے اس دلچسپ واقعے پر روشنی ڈالتے ہیں۔

حویلی الف شاہ اور چہلم کی ابتدا

لاہور کے تاریخی اندرون شہر (خصوصاً دہلی دروازہ اور چوک نواب صاحب کے قریب) واقع حویلی الف شاہ وہ مقدس مقام ہے جہاں سے لاہور میں چہلم امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا آغاز ہوا۔

  • تاریخی روایت: برصغیر پاک و ہند میں کربلا کے شہداء کی یاد منانے اور چہلم کے اجتماعات کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس میں اس حویلی کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

  • مرکزِ عزاداری: یہاں دہائیوں سے مجالس اور جلوسوں کا انعقاد ہوتا چلا آ رہا ہے، جو لاہور کی عزاداری کی تاریخ کا ایک اہم ترین باب ہے۔

الف شاہ کون تھے؟

سید الف شاہ صاحب ایک جید عالم، بزرگ اور روحانی شخصیت تھے جو اپنی تقویٰ، طہارت اور اہلبیتِ اطہر علیہم السلام سے عشق کی وجہ سے معروف تھے۔

  • آپ کا تعلق سادات گھرانے سے تھا جو دینِ اسلام کی ترویج اور شہدائے کربلا کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف تھے۔

  • جب لاہور میں مذہبی پابندیوں اور مشکل حالات کا دور دورہ تھا، ایسے میں الف شاہ صاحب نے اہلبیت کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

راجہ رنجیت سنگھ سے اجازت کا تاریخی پس منظر

جب لاہور پر سکھ راجہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی (جو کہ 18 ویں صدی کے آخر اور 19 ویں صدی کے نصفِ اول کا دور ہے)، اس وقت کسی بھی بڑے مذہبی جلوس یا کھلے عام اجتماع کے لیے حکومتی اجازت لینا لازمی تھا۔

راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں تمام مذاہب کے ساتھ رواداری کی پالیسی اپنائی جاتی تھی، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا جلوس نکالنے کے لیے دربار سے اجازت حاصل کرنا ایک بڑا مرحلہ تھا۔

اجازت کا واقعہ:

  • درخواست پیش کرنا: کہا جاتا ہے کہ سید الف شاہ صاحب نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضری دی اور اپنے عقیدے کے مطابق امام حسین علیہ السلام کا چہلم منانے (جلوس و مجلس) کے لیے باقاعدہ درخواست دی۔

  • رواداری اور انصاف: مہاراجہ رنجیت سنگھ، جو اپنی سیاسی بصیرت اور انصاف پسندی کے لیے جانا جاتا تھا، نے اس درخواست پر غور کیا۔ جب الف شاہ صاحب نے اسے بتایا کہ یہ سراسر امن، صبر، مظلوم کی حمایت اور شہداء کی یاد کا پرامن اجتماع ہے، تو راجہ نے نہ صرف اجازت نامہ جاری کیا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ جلوس کے راستے میں امن و امان قائم رہے۔

  • شرائط اور عملدرآمد: رنجیت سنگھ کی اجازت کے بعد الف شاہ حویلی سے اس جلوس اور مجالس کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس نے آگے چل کر لاہور کی عزاداری کی تاریخ میں ایک مستقل روایت کی شکل اختیار کر لی۔


حویلی الف شاہ اور سید الف شاہ کا نام لاہور کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ جس جرأت، حکمت اور عقیدت کے ساتھ الف شاہ صاحب نے سکھ دورِ حکومت میں مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اجازت لے کر چہلم امام حسین علیہ السلام کی بنیاد رکھی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے استقامت اور عشقِ حسینی کی ایک بہترین مثال ہے۔ آج بھی اندرون دہلی دروازہ کی یہ حویلی اسلاف کی یادگار کے طور پر اس عظیم روایت کی امین ہے۔

”تاریخِ لاہور“ از کنہیا لال ہندی: یہ کتاب (جو انیسویں صدی کے آخر میں لکھی گئی) لاہور کی تاریخی عمارتوں، اندرون شہر کی حویلیوں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت کے انتظامی و مذہبی حالات کو سمجھنے کے لیے بنیادی اور مستند حوالہ مانی جاتی ہے

”لاہور: ہسٹری، آرکیٹیکچرل ریمینز اینڈ اینٹی کوٹیز“ (Lahore: Its History, Architectural Remains and Antiquities) از سید محمد لطیف: اس انگریزی تصنیف میں سکھ دور کے دوران لاہور کی حویلیوں، شخصیات اور حکومتی احکامات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی