لاہور اور گردونواح میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ: گرمی، حبس اور عوام کی مشکلات
لاہور اور اس کے گردونواح میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک طرف سورج کی تپش اور شدید حبس نے لوگوں کا جینا محال کیا ہوا ہے، تو دوسری طرف بجلی کی گھنٹوں غائب رہنے والی آنکھ مولی نے جل پر تیل کا کام کیا ہے۔
شدید گرمی اور حبس کا عذاب
موجودہ موسم میں گرمی اور حبس کا زور پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ ایسے میں جب پنکھے اور اے سی بند ہو جائیں، تو گھروں میں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کا سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔ دفاتر، دکانیں اور چھوٹے کارخانے بھی اس تعفن زدہ اور گرم ماحول میں مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا روزگار بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔
واپڈا اور متعلقہ اداروں سے سوال
عوام کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس شدید گرمی میں آخر یہ طویل لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے؟
کیا ادارے اس بات سے بے خبر ہیں کہ گرمی کی اس لہر میں بجلی کے بغیر گزارا کرنا ناممکن ہے؟
ٹرانسمیشن اور سپلائی کے نظام کی بہتری کے دعوے صرف کاغذی کارروائی تک کیوں محدود ہیں؟
وقت کا تقاضا: فوری ازالہ
لاہور اور ملحقہ علاقوں کے عوام اس وقت شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔ واپڈا اور متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ شہری اس قیامت خیز گرمی میں کچھ سکھ کا سانس لے سکیں۔
"خدا کا خوف کرو اور عوام کو اس اذیت سے نجات دلاؤ!"
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں