2,000 گیتوں کا خالق اور 150 روپے کا معاوضہ: مشتاق شفائی کی دردناک داستان
مشتاق شفائی صاحب نے اپنے سنہرے دور میں پاکستانی موسیقی کو وہ شاہکار دیے جن کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کے لکھے ہوئے گیت اپنے وقت کے عظیم ترین فنکاروں نے گائے—جن میں ملکہ ترنم نورجہاں، خان صاحب مہدی حسن، غلام علی، پرویز مہدی، عذرا جہاں اور نصیبو لعل جیسی بڑی آوازیں شامل ہیں۔
مگر اتنے بڑے گلوکاروں کو سدا بہار نغمے دینے والے اس شاعر کو اس دور میں ایک گانے کا معاوضہ محض 150 سے 200 روپے دیا جاتا تھا، جو ان کی محنت اور تخلیق کے ساتھ شدید زیادتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ انڈسٹری کی بے حسی اور حق تلفی سے دلبرداستہ ہو کر فلمی دنیا سے دور ہوئے اور لاہور کے لنڈے بازار میں کپڑوں کا کاروبار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
ان کا یہ سفر پاکستانی فلم انڈسٹری کے تلخ رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے:
عظیم گلوکاروں کی آواز: نورجہاں، مہدی حسن اور غلام علی جیسے فنکاروں نے ان کے گیت گا کر بے پناہ داد سمیٹی۔
معاوضہ صرف 150-200 روپے: اتنے بڑے ناموں کے لیے گانے لکھنے کے باوجود شاعر کو چند روپوں کا معاوضہ دیا جاتا رہا۔
انڈین انڈسٹری کا احترام: جب ان کا گیت بھارتی پروجیکٹ میں شامل ہوا تو شبانہ اعظمی صاحبہ خود لاہور آ کر معاوضہ ادا کر کے گئیں۔
2026 میں صدارتی ایوارڈ: دہائیوں کی گمنامی کے بعد حکومت نے صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا، جس پر انہوں نے لنڈے کا پینٹ کوٹ پہن کر ایوارڈ لینے کا تاریخی اور دردناک اعلان کیا۔
مشتاق شفائی کے شاہکار نغمے: وہ گیت جو آج بھی ہر زبان پر ہیں
پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ میں کچھ نغمے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ ان کا سحر ہر نسل کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ مشتاق شفائی صاحب کی قلم سے نکلے ہوئے یہ دو گانے ان کی شاندار شاعرانہ صلاحیتوں اور لازوال تخلیق کا روشن ثبوت ہیں:
"تو ملا تو ملی ایسی جنت مجھے" — ملکہ ترنم نورجہاں یہ گیت لالی ووڈ کی تاریخ کے سب سے زیادہ مقبول اور رومانی نغموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی سحر انگیز آواز اور مشتاق شفائی صاحب کے خوبصورت اور جذباتی الفاظ نے اس گانے کو ایک لازوال شاہکار بنا دیا جسے آج بھی ہر فورم پر بے حد پسند کیا جاتا ہے۔
"ساڈا دل توڑ کے توویں پچھتاویں گا" — استاد غلام علی پنجابی موسیقی کا یہ سدا بہار گیت استاد غلام علی خان صاحب کی پرکشش گائیکی اور مشتاق شفائی صاحب کی درد بھرے بولوں کا بہترین امتزاج ہے۔ دل کو چھو لینے والی اس تخلیق نے اپنے وقت میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور آج بھی سنکروں دلوں کی آواز بنی ہوئی ہے۔
یہ نغمے اس بات کا ثبوت ہیں کہ 150 سے 200 روپے کا معمولی معاوضہ لینے والا یہ عظیم شاعر کس قدر بلند تخلیقی صلاحیتوں کا مالک تھا، جس کے لکھے ہوئے الفاظ کو نورجہاں اور غلام علی جیسے دیوہیکل فنکاروں نے اپنی آواز کا پیراہن پہنایا۔
ہمارے معاشرے میں فنکاروں کو ان کی زندگی میں وہ مقام کیوں نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں؟ کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں