طاہرہ جالب کا ڈھابہ ہٹائے جانے کا واقعہ: رزقِ حلال کی جدوجہد اور حکومت سے سوالات
ملی و عوامی شاعر حبیب جالب مرحوم کی بیٹی طاہرہ جالب ایک بار پھر خبروں کی سرخیوں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کے والد کا کوئی انقلابی کلام نہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کی کٹھن جدوجہد ہے۔ حال ہی میں لاہور میں طاہرہ جالب کے قائم کردہ کھانوں کے "ٹھیلے" (ڈھابے) کو ہٹا دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے حکومت پنجاب اور انتظامیہ کے رویے پر گہرے دکھ اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
طاہرہ جالب کے مطابق، پیرا فورس کے اہلکاروں نے اچانک ان کے ڈھابے کو موقع سے ہٹا دیا۔ طاہرہ جالب اپنے گھر سے کھانا تیار کر کے اس ڈھابے پر فروخت کرتی تھیں تاکہ عزت و وقار کے ساتھ اپنا اور اپنی دیگر بہنوں کا پیٹ پال سکیں۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا امداد مانگنے کی بجائے اپنی محنت سے "رزقِ حلال" کمانا چاہتی ہیں، لیکن انتظامیہ کے اس قدم نے ان سے روزگار کا واحد ذریعہ بھی چھین لیا ہے۔
ماڈل ریڑھی سکیم اور انتظامی عدم توجہی
اپنے ایک انٹرویو میں طاہرہ جالب نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی "ماڈل ریڑھی سکیم" کے تحت باقاعدہ درخواست دے رکھی تھی۔
دفتری چکر: اس سلسلے میں وہ ڈپٹی کمشنر (DC) لاہور، کمشنر لاہور اور ٹاؤن ہال کے متعدد چکر لگا چکی ہیں۔
درخواست کی منسوخی: تمام تر تگ و دو کے باوجود ان کی درخواست کو ریجیکٹ (مسترد) کر دیا گیا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس صورتحال کا مبینہ ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایک عام شہری یا غریب خاندان عزت کی روزی کمانا چاہے تو انتظامیہ ان کی مدد کرنے کے بجائے ان کے روزگار کو ہی کیوں ختم کر دیتی ہے؟
عوامی ردِعمل اور اٹھتے ہوئے سوالات
حبیب جالب نے اپنی پوری زندگی عوام کے حقوق اور سچائی کی خاطر جدوجہد میں گزاری۔ آج ان کی بیٹی کا سڑک پر رزقِ حلال کے لیے جدوجہد کرنا اور پھر انتظامی کارروائی کا نشانہ بننا سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
طاہرہ جالب کو فوری طور پر متبادل اور باقاعدہ جگہ فراہم کی جائے۔
روزگار کمانے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
پیغام: رزقِ حلال کمانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ حبیب جالب کی بیٹی کا یہ قدم سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری ریاست محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کہاں کھڑی ہے؟
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں