لاہوریوں کا مذہبی مزاج اور اولیاء کرام سے محبت: عرس داتا گنج بخش اور دودھ کی انوکھی سبیلیں

 

لاہور صرف کھانوں, رنگینیوں اور زندہ دلی کا ہی شہر نہیں ہے، بلکہ اس کی تاریخ کا ایک اور انتہائی روشن اور پُرکشور پہلو یہاں کے باسیوں کا صوفی ازم سے گہرا عشق، اولیاء کرام سے والہانہ عقیدت اور لازوال مہمان نوازی ہے۔ لاہوریوں کا مذہبی مزاج اور بزرگانِ دین سے محبت کی اصل جھلک آپ کو حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللہ کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے۔

عقیدت و محبت کا بحرِ بیکراں: عرس داتا حضور

جب بھی داتا صاحب کے عرس کے ایام آتے ہیں، پورا لاہور عقیدت کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ ملک بھر اور بالخصوص اندرون و بیرونِ ملک سے لاکھوں زائرین دربارِ عالیہ پر حاضری دینے کے لیے کھنچے چلے آتے ہیں۔ ہر شخص اپنی بساط اور عقیدت کے مطابق داتا حضور کے دربار پر حاضری دیتا ہے، کوئی نذر و نیاز پیش کرتا ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مصروف ہوتا ہے، تو کوئی ذکر و اذکار اور درود و سلام کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہوریوں کے دلوں میں اولیاء اللہ کے لیے کتنی گہری اور سچی عقیدت بسی ہوئی ہے۔

لاہوری مہمان نوازی اور لنگر کی روایت

لاہور کی مہمان نوازی کی روایت دنیا بھر میں معروف ہے، لیکن عرس کے دنوں میں یہ جذبہ اپنی انتہا کو چھوتا ہے۔ عرس مبارک کے موقع پر شہر کا بچہ بچہ مہمان نوازی کی اس روایت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ داتا صاحب کے دربار کی طرف جانے والے راستوں پر دور دور تک لنگر کے خصوصی اہتمام کیے جاتے ہیں۔ عقیدت مندوں کی جانب سے طرح طرح کے کھانے، میٹھے اور پکوان محبت کے ساتھ زائرین میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جہاں امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں رہتا اور سب ایک ہی صف میں بیٹھ کر لنگر نوش کرتے ہیں۔

گجر برادری کی منفرد روایت: دودھ کی لاکھوں من خالص سبیلیں

اس روحانی اجتماع میں ایک ایسی انوکھی روایت بھی دیکھنے کو ملتی ہے جو آپ کو دنیا میں شاید ہی کہیں اور نظر آئے۔ یہ روایت ہے گجر برادری کی جانب سے لگائی جانے والی دودھ کی عظیم الشان سبیلوں کی۔

عرس کے ایام میں گجر برادری کے غیور اور سخی افراد کی طرف سے دودھ کی طویل سبیلیں لگائی جاتی ہیں، اور وہ بھی لاکھوں من خالص دودھ کی صورت میں! یہ کوئی عام سبیل نہیں ہوتی بلکہ اس میں زائرین کے لیے ٹھنڈا، میٹھا اور خالص دودھ بڑی محبت سے پیش کیا جاتا ہے۔ تھکے ماندے مسافروں اور دور دراز سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے یہ دودھ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ اس سخی پن اور جوشِ عقیدت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کس طرح ایک پوری برادری مل کر اتنے بڑے پیمانے پر مہمان نوازی کا حق ادا کرتی ہے۔


حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللہ کا عرس مبارک صرف ایک سالانہ تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ لاہوریوں کے اعلیٰ اخلاق، مذہبی ہم آہنگی، اور اولیاء کرام سے سچی محبت کا مظہر ہے۔ یہ وہ ثقافتی اور روحانی ورثہ ہے جو لاہور کی پہچان کو دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔ جب تک اس شہر میں داتا کے ماننے والے اور ایسی زندہ دل روایات موجود ہیں، لاہور کی رونقیں اور یہاں کی مہمان نوازی ہمیشہ یوں ہی تابناک رہے گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی