وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے ایک بار پھر دل جیت لیے: لاہور میں بسنت کی بحالی اور شاندار تیاریاں
لاہور، جو اپنی زندہ دلی، رنگا رنگ تہواروں اور تاریخی ثقافت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، ایک بار پھر اپنی اصلی بہار کی طرف لوٹ رہا ہے۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی عوام دوست اور ثقافت دوست پالیسیوں نے ایک بار پھر اہل لاہور کے دل جیت لیے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد لاہور میں بسنت کے تہوار کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی ہے، جس کی خوشی میں پورے شہر میں جشن کا سا ماحول ہے۔
بسنت فیسٹیول: آن لائن لائسنس رجسٹریشن کا آغاز
حکومتِ پنجاب نے بسنت کے تہوار کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے انتہائی جامع اور مربوط حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں آن لائن لائسنس رجسٹریشن کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔
آسان فیس: شہریوں کی سہولت کے لیے لائسنس کی فیس انتہائی کم یعنی صرف ایک ہزار روپے رکھی گئی ہے تاکہ ہر عام و خاص اس تاریخی تہوار میں قانونی طریقے سے حصہ لے سکے۔
محفوظ ماحول: حکومت نے واضح کیا ہے کہ بسنت کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کا جوش و خروش: 50 لاکھ افراد کی آمد کی تیاری
لاہور کی بسنت صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بیرونِ ملک مقبیم پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دنیا بھر سے تقریباً 50 لاکھ اوورسیز پاکستانی اس تاریخی تہوار میں شرکت اور لاہور میں بسنت منانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ اوورسیز پاکستانی اپنی مٹی اور ثقافت سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور کا رخ کریں گے۔
ثقافتی ورثے کی واپسی اور معاشی سرگرمیاں
بسنت کی بحالی کا فیصلہ نہ صرف لاہور کی رونقیں بحال کرے گا بلکہ اس سے صوبے کی معیشت کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، پتنگ سازوں اور مقامی صنعتوں سے وابستہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
لاہور کے باسیوں اور بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کے لیے یہ بسنت یقیناً ناقابل فراموش ہوگی۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام شہر کی ثقافتی روح کو زندہ رکھنے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔
کیا آپ اس سال کی بسنت کے لیے پتنگ بازی کی تیاری کر رہے ہیں یا آپ کو اس تہوار کی کوئی خاص بات سب سے زیادہ پسند ہے؟
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں