لاہور کا اسٹیج: عاجزی کا روپ، غرور کے بت اور عابدہ بیگ کا بڑا انکشاف!

 


"مسجد گیا سجدے کیتے نام رکھ لیا نمازی،

 مکہ گیا چکر کیتے نام رکھ لیا حاجی،

 ہتھ پھری تلوار تے نام رکھ لیا غازی،

 اوہ کس کم دیاں تیریاں نذر نیازاں جے توں سوہنا رب نہ کیتا راضی۔"

لاہور کا اسٹیج: عاجزی کا روپ، غرور کے بت اور عابدہ بیگ کا بڑا انکشاف!

ایک وہ وقت تھا جب لاہور کا تھیٹر معاشرے کے اس دوغلے پن پر کھل کر تنقید کرتا تھا اور ہنسی ہنسی میں سچ منہ پر مار دیتا تھا۔ لیکن پردے کے پیچھے فنکاروں کی اصل حقیقت کیا ہے؟ سینئر اسٹیج اداکارہ عابدہ بیگ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں ان فنکاروں کے بارے میں کچھ ایسے تلخ حقائق بیان کیے ہیں جو آپ کو دنگ کر دیں گے!

  • عابدہ بیگ کا انکشاف اور عاجزی: عابدہ بیگ نے بتایا کہ کس طرح لیجنڈری فنکار عابدہ بیگ کے سامنے آتے وقت یا اسٹیج پر جاتے ہوئے عاجزی کا مظاہرہ کرتے تھے، اور خود سہیل احمد (عزیزی) کے بارے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ کس طرح گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر پوری عاجزی کے ساتھ اسٹیج پر جاتے تھے۔ یہ ان کے فن اور بزرگوں کے احترام کا ایک خاص انداز تھا۔

  • افتخار ٹھاکر کا غرور اور تکبر: دوسری طرف، عابدہ بیگ نے افتخار ٹھاکر کی شخصیت کا ایک ایسا رخ بے نقاب کیا جو شائقین کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ انہوں نے کھل کر بات کی کہ افتخار ٹھاکر کی اکڑ اور غرور سے اللہ کی پناہ! ان میں اتنا تکبر بھرا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ جو فنکار سکرین پر ہنساتا ہے، پردے کے پیچھے اس کا رویہ کتنا متکبرانہ ہو سکتا ہے۔

  • اصلی اور نقلی چہرے: عابدہ بیگ جیسے سینئر فنکاروں نے اس فیلڈ کو وقار بخشا، لیکن وہ آج اس بات پر کھل کر بول رہی ہیں کہ کیسے شہرت ملتے ہی کچھ لوگوں کے سروں پر غرور سوار ہو جاتا ہے۔

اصل المیہ: کہاں گئے وہ دن جب تھیٹر اصلاح کا ذریعہ تھا؟ آج کے نام نہاد اسٹیج نے فہاشی، گھٹیا فقروں اور ان فنکاروں کے ذاتی غرور و تکبر کی وجہ سے اس پورے کلچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ شہرت ملتے ہی فنکار غرور کے خول میں چھپ جاتے ہیں؟ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی