سینما کی بحالی، کم بجٹ فلمیں اور ہمارے حقیقی ہیرو: "ملک بادشاہ" اور ان کے ناقدین
فلمی دنیا میں اکثر بڑی بڑی انڈسٹریز، کروڑوں کے بجٹ اور چمکتے دمکتے سیٹس کا چرچا ہوتا ہے، لیکن اصل سنیما وہی زندہ کرتا ہے جو دل سے میدان میں اترتا ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم "ملک بادشاہ" اور اس کے پروڈیوسر و ہیرو نے کچھ ایسا ہی کارنامہ انجام دیا ہے، جس پر تعریف بنتی ہے۔
آئیے اس بلاگ میں اس فلم، اس کے پسِ منظر اور سنیما کی حالتِ زار پر کھل کر بات کرتے ہیں۔
فلم کی ٹیم کو سلام اور ناقدین کو دوٹوک پیغام
پہلے تو میں اس فلم کی پوری ٹیم کو دل سے مبارک باد دیتا ہوں، خاص طور پر فلم کے پروڈیوسر اور ہیرو کو، جنموں نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے یہ پراجیکٹ مکمل کیا۔
اور ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہوں جو ہیرو اور فلم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کم بختو! آج کے دور میں جہاں تین تین کروڑ روپے لے کر بھی فلمی لوگ ڈھنگ کی فلمیں نہیں بنا پا رہے، اس جوان نے پچاس لاکھ روپے میں فلم بنا کر دکھا دی۔
سٹار کی عمر نہیں ہوتی، سٹارڈم ہوتا ہے!
اس فلم کے ہیرو کی عمر اور حلیے پر اعتراض کرنے والے شاید لیجنڈ سلطان راہی کو بھول گئے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر میں بھی صائمہ کے ساتھ ہیرو آتے تھے۔ اور ویسے دیکھا جائے تو آج صائمہ خود ساٹھ سال کی عمر میں ہیروئن آ رہی ہیں—جسے میں برا نہیں سمجھتا۔ سچ تو یہ ہے کہ سٹار کی کوئی عمر نہیں ہوتی، سٹارڈم ہوتا ہے! جب تک وہ ہے، وہ سٹار ہے۔ میں "ملک بادشاہ" کے پروڈیوسر کے جذبے اور شوق کو سات سلام پیش کرتا ہوں۔
شراب و شباب کے بجائے فن پر سرمایہ کاری
یہی پیسہ جو پروڈیوسر نے فلم پر لگایا، وہ چاہتا تو شراب و شباب اور جوئے میں اڑا سکتا تھا، مگر اس نے اپنے دل کی آواز سنی، اپنے پیشن (Passion) پر پیسہ لگایا اور فلم بنا دی۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے لوگ ہیں (یہیں پاکستان میں بھی اور امریکہ، کینیڈا، برطانیہ میں بھی) جن کے پاس پیسہ تو ہے، مگر وہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کوئی اور ان پر پیسہ لگا دے۔ لیکن یہاں میں خصوصاً تین ایسے لوگوں کا ذکر کروں گا جنہوں نے غمِ روزگار کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے:
یونس پنوار (امریکہ)
ایم کے شیرازی (نیو جرسی، امریکہ)
اسلم حسن (یوکے)
میں ان تینوں کی اس لیے دل سے قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے خواب مرنے نہیں دیے۔ ہجرت کے بعد بھی سب کچھ بھلا کر پیسے کے لیے خودکشی نہیں کی۔ انہوں نے پیسہ کمایا مگر اسے شراب، شباب، کسی نیم ملا، پیر کی نذر نہیں کیا اور نہ ہی کسی نئے فضول بزنس کے لالچ میں لگایا۔ انہوں نے اپنے اندر کے فنکار کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے خون پسینے کی کمائی لگائی اور اس سے صرف اپنے ذوقِ فن کی آسودگی کمائی، دولت کا انبار نہیں۔
روزگار کے مواقع اور لکشمی چوک کی رونقیں
ملک لیاقت نے جو فلم بنائی، اس سے صرف فن ہی زندہ نہیں ہوا بلکہ بیسیوں لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ لکشمی چوک کے بند سینما گھروں میں ایک بار پھر زندگی کی رمق نظر آنے لگی ہے۔
میں تو کہتا ہوں کہ حکومت کو چاہیے کہ باقی بند سینماؤں کو بھی بجلی کی سبسٹڈی دے تاکہ وہ کم بجٹ کی سستی فلمیں چلا سکیں اور عام عوام کو سستی تفریح میسر آ سکے، جو اب ان کی پہنچ سے بالکل دور ہو چکی ہے۔
آج حال یہ ہے کہ تھیٹر کا ٹکٹ سات ہزار روپے کا ہو گیا ہے اور ملٹی پلیکس میں فلم دیکھنے جاؤ تو ایک فیملی کو دس سے پندرہ ہزار روپے پڑتے ہیں۔ ایسے میں "ملک بادشاہ" جیسی کوششیں ہی عام آدمی کو سنیما کے قریب رکھ سکتی ہیں۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں