عذرا جہاں کی فنی خدمات کا اعتراف کب ہوگا؟ کئی دہائیوں کی محنت کے باوجود صدارتی اعزاز کا سوال!

 

عذرا جہاں کی فنی خدمات کا اعتراف کب ہوگا؟ کئی دہائیوں کی محنت کے باوجود صدارتی اعزاز کا سوال!

لاہور والا خصوصی رپورٹ

پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں بہت سی ایسی آوازیں ہیں جنہوں نے اپنی گائیکی سے فلمی دنیا میں الگ پہچان بنائی۔ عذرا جہاں بھی انھی گلوکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے پاکستانی فلمی موسیقی کے لیے اپنی آواز کا فن پیش کیا۔ لیکن ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں سرکاری اعزاز کا معاملہ ایک اہم سوال بن کر سامنے آتا ہے۔

کیا عذرا جہاں کی خدمات کو وہ سرکاری پذیرائی ملی جس کی توقع کی جاتی ہے؟

عذرا جہاں کے نام کے ساتھ نگار ایوارڈز کا ذکر ملتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے 1997 اور 1999 میں نگار ایوارڈز حاصل کیے۔ تاہم، ان کے نام کے ساتھ صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی، یعنی پرائیڈ آف پرفارمنس، کا اندراج سامنے نہیں آتا۔ اس حوالے سے سرکاری ریکارڈ سے حتمی تصدیق ضروری ہے۔

سوال صرف ایک ایوارڈ کا نہیں، فنکاروں کی قدر کا بھی ہے!

کسی فنکار کی کامیابی کو صرف ایوارڈز کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس فن، محنت اور ثقافتی ورثے کی ہے جو فنکار اپنے کام کے ذریعے آنے والی نسلوں تک پہنچاتا ہے۔

لیکن جب حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو سول اعزازات سے نوازتی ہے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ فلمی موسیقی اور پلے بیک گائیکی سے وابستہ فنکاروں کی خدمات کا جائزہ کن اصولوں کے تحت لیا جاتا ہے؟

کیا ایوارڈز کے لیے نامزدگی اور انتخاب کا معیار عام لوگوں کے لیے واضح ہے؟ کیا سینئر فنکاروں کی طویل فنی خدمات کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے؟ اور کیا ماضی کی فلمی موسیقی کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے فنکاروں کی خدمات کو مناسب انداز میں محفوظ کیا جا رہا ہے؟

نگار ایوارڈز اپنی جگہ، سرکاری اعزاز اپنی جگہ!

عذرا جہاں کو نگار ایوارڈز ملنا ان کے فنی سفر کا اہم حصہ ہے۔ تاہم، کسی سرکاری اعزاز کا نہ ملنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ متعلقہ فنکار کی خدمات کو نظرانداز کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ اس کے لیے ایوارڈز کے انتخابی طریقۂ کار اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔

لاہور والا کا مؤقف: پاکستان کے فنکار ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اعزازات کے انتخاب میں شفافیت، واضح معیار اور مختلف شعبوں کے فنکاروں کی خدمات کا منصفانہ جائزہ یقینی بنایا جائے۔

عذرا جہاں جیسی گلوکاراؤں کے فنی سفر پر گفتگو صرف ایک ایوارڈ تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ اور اس سے وابستہ فنکاروں کے اعترافِ خدمات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا حکومتِ پاکستان کو سینئر پلے بیک سنگرز کی فنی خدمات کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سوشل میڈیا پر نیا طوفان: جیدے لسی والے کا وکی پانڈا کو 10 کروڑ کا قانونی نوٹس!

وکی پانڈا پر ایک نئی مصیبت: لاہور کے معروف فوڈ پوائنٹ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ!

لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ "جیلا ایک نشہ ہے" کیوں بند ہوا؟ اصل کہانی