کاش وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی ریڈ لائن عوام کے اصل مسائل ہوتے
کاش ریڈ لائن عوام کے اصل مسائل ہوتے!
کاش وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی ریڈ لائن کچھ اور ہوتی۔
کاش ریڈ لائن یہ ہوتی کہ پنجاب میں کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہے، کسی بچے کی تعلیم ادھوری نہ رہ جائے، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان نہ ہوں، تاجروں کو کاروبار کرنے میں آسانیاں ملیں، چھوٹے کاروبار ترقی کریں اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہو۔
کاش ریڈ لائن یہ ہوتی کہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے نہ دبے، مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے اور کاروباری شخص ہر روز نئی پریشانی کے بجائے نئے مواقع تلاش کرے۔
لیکن جب "ریڈ لائن" کا تصور عوام کے سامنے آتا ہے تو بحث اکثر سخت کارروائی، پولیس ایکشن اور جرائم کے خلاف طاقت کے استعمال تک پہنچ جاتی ہے۔
یقیناً جرائم کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، قانون توڑنے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک مضبوط حکومت کی کامیابی صرف سخت ایکشن سے ناپی جائے گی؟
یا پھر اس کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ:
کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا؟
کتنے کاروبار آسان ہوئے؟
کتنے بچوں کو بہتر تعلیم ملی؟
کتنی کرپشن کم ہوئی؟
اور کتنے عام شہری کو انصاف ملا؟
عوام کو ایسی حکومت چاہیے جس سے جرائم پیشہ عناصر خوفزدہ ہوں، مگر عام شہری مطمئن اور محفوظ محسوس کرے۔
کیونکہ بندوق کی آواز چند لمحوں کے لیے خوف پیدا کر سکتی ہے، لیکن روزگار، تعلیم، انصاف اور بہتر حکمرانی ہی معاشرے کا مستقبل بناتے ہیں۔
لاہور والا کا سوال:
اگر پنجاب کی صرف ایک ریڈ لائن ہونی چاہیے تو وہ کیا ہو؟
بے روزگاری کا خاتمہ، مہنگائی میں کمی، نوجوانوں کا مستقبل، کرپشن کا خاتمہ یا جرائم کے خلاف سخت کارروائی؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں