مٹی دے باوے قسط 5: سمیہ ممتاز کے ماسی پھاتاں والے ڈائیلاگز نے محفل لوٹ لی، ’چھمک چھلو‘ کا انداز چھا گیا!
مکمل اردو بلاگ — لاہور والا
مٹی دے باوے قسط 5: سمیہ ممتاز کے ماسی پھاتاں والے ڈائیلاگز نے محفل لوٹ لی، ’چھمک چھلو‘ کا انداز چھا گیا!
لاہور: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اداکاری، مکالموں اور منفرد انداز کی وجہ سے ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔ ڈرامہ سیریل مٹی دے باوے کی قسط نمبر 5 میں سمیہ ممتاز کے کردار ماسی پھاتاں کا انداز بھی کچھ ایسا ہی نظر آیا، جہاں پنجابی زبان کے چٹ پٹے مکالموں اور مزاحیہ ادائیگی نے منظر کو خاصا دلچسپ بنا دیا۔
ماسی پھاتاں کے پنجابی ڈائیلاگز نے خوب رنگ جمایا!
ڈرامے کے اس منظر میں ماسی پھاتاں ماضی کی بلو رانی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مخصوص پنجابی انداز میں کہتی ہیں:
"اس ویرے او پورے پنڈ دی چھمک چھلو ہونی سی!" 😂
یہ مکالمہ اپنی پنجابی زبان، اندازِ بیان اور مزاحیہ ادائیگی کی وجہ سے خاص توجہ حاصل کرتا ہے۔
ماسی پھاتاں صرف باتیں ہی نہیں کرتیں بلکہ اپنے مخصوص انداز اور حرکات سے بھی مکالمے میں مزاح پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس منظر کا مزاح محض الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اداکاری بھی اسے مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔
بلو رانی کے عاشقوں کا ذکر اور ماسی پھاتاں کا مزاح!
اس منظر میں ماسی پھاتاں ایک عاشق کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں:
"اے بیچارہ ماتڑ، غریبڑا، مسکین، کمیاں دا بال!"
اس کے بعد بلو رانی کے عاشقوں کے درمیان اس کی حیثیت بیان کرنے کا انداز بھی اپنی جگہ دلچسپ ہے۔
پنجابی محاوروں، مقامی زبان اور کردار کی مخصوص گفتگو سے منظر میں دیسی مزاح کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ ایسے مکالمے پنجابی ثقافت اور روزمرہ گفتگو کے اس انداز کی یاد دلاتے ہیں جس میں بات کو دلچسپ بنانے کے لیے الفاظ کے ساتھ لہجے اور تاثرات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
سمیہ ممتاز کی اداکاری کیوں نمایاں محسوس ہوتی ہے؟
ماسی پھاتاں کے کردار میں سمیہ ممتاز کی اداکاری کا نمایاں پہلو مکالموں کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کا امتزاج ہے۔
خصوصاً ’چھمک چھلو‘ والے مکالمے میں ان کا انداز منظر کے مزاح کو بڑھاتا ہے۔ کردار کی عمر، جسمانی انداز اور مکالمے کی ادائیگی کو سامنے رکھتے ہوئے مزاح پیدا کرنا اداکاری کے ان پہلوؤں میں شامل ہے جن کے لیے کردار کی باریکیوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
اسی لیے اس منظر کو محض ایک مزاحیہ مکالمے کے بجائے اداکارہ کی پرفارمنس کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
فائزہ افتخار کی تحریر اور سین کی ڈائریکشن
کسی بھی ڈرامے میں اداکار کی پرفارمنس کے ساتھ مکالمہ نگاری اور ہدایت کاری بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فائزہ افتخار کی تحریر میں پنجابی زبان اور مقامی مزاح کا استعمال اس منظر کو منفرد رنگ دیتا ہے۔ دوسری طرف، مکالمے کی ادائیگی اور اس کے ساتھ اداکارہ کے تاثرات و حرکات کا امتزاج سین کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماسی پھاتاں کا یہ منظر ڈرامے کے مزاحیہ حصوں میں ایک یادگار لمحے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مٹی دے باوے: پنجابی ثقافت اور خاندانی کہانی کا امتزاج
ڈرامہ سیریل مٹی دے باوے میں وہاج علی اور ماہرہ خان جیسے معروف فنکاروں کی موجودگی بھی ناظرین کی توجہ کا مرکز ہے۔
ڈرامے میں کرداروں کی گفتگو، رشتوں کی نوعیت اور پنجابی ماحول کہانی کو ایک مقامی رنگ دیتے ہیں۔ ماسی پھاتاں جیسے کردار اس ماحول میں مزاح کا اضافہ کرتے ہیں اور سنجیدہ لمحات کے درمیان ناظرین کو مسکرانے کا موقع دیتے ہیں۔
قسط نمبر 5 کا زیرِ بحث منظر بھی اسی حوالے سے دلچسپ ہے کہ اس میں پنجابی مکالموں کو اداکاری کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا سمیہ ممتاز نے ماسی پھاتاں کے کردار میں اپنی اداکاری سے آپ کو متاثر کیا؟
اور کیا "اس ویرے او پورے پنڈ دی چھمک چھلو ہونی سی!" آپ کے لیے بھی اس قسط کا سب سے مزاحیہ مکالمہ تھا؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
تحریر: لاہور والا (Lahore Vala)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں